Archive for مئی, 2006

چھيڑے کبھي ميں نے

چھيڑے کبھي ميں نے لب و رخسار کے قصے
گا ہےگل و بلبل کي حکايات کو نکھارا

گا ہے کسي شہزادے کے افسانے سنائے
گا ہے کيا دنيائے پرستاں کا نظارا

ميں کھويا رہا جن و ملائک کے جہاں ميں
ہر لحظہ اگر چہ مجھے آدم نے پکارا

۔۔۔ احمد فراز ۔۔۔

Comments (1)

متاع لوح و قلم

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
زبان پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے

فیض احمد فیض

Comments (1)

تقسيم

يہ حساب کا بڑا ضروري قاعدہ ہے، سب سے زيادہ جھگڑے اسي پر ہوتے ہيں۔

تقسيم کا مطلب بے بانٹنا
اندھوں کا آپس ميں ريوڑياں بانٹنا
بندر کا بليوں ميں روٹي بانٹنا
چوروں کا آپس ميں مال بانٹنا
اہلکاروں کا آپس ميں رشوت بانٹنا
مل بانٹ کر کھانا اچھا ہوتا ہے
دال تک جوتوںمیں بانٹ کر کھاني چاہئيے
ورنہ قبض کرتي ہے

تقسيم کا طريقہ کچھ مشکل نہيں ہے
حقوق اپنے پاس رکھئيے
فرائض دوسروں ميں بانٹ ديجئے
روپيہ پيسہ اپنے کَھسے ميں ڈالئيے
قناعت کي تلقين دوسروں کو کيجئے

 

آپ کو مکمل پہاڑہ مع گر ياد ہو تو کسي کو تقسيم کي کانوں کان خبر نہيں ہوسکتي، آخر کو 12 کروڑ کي دولت کو 22 خاندانوں نے آپس ميں تقسيم کيا ہي ہے؟ کسي کو پتہ چلا؟

تفريق کے قاعدے سے دودھ ميں سے مکھي نکالو۔

آدمي ضرب مسلسل کي تاب کہاں تک لاسکتا ہے؟

جو اندھے نہيں وہ بھي ريوڑياں اپنوں ہي ميں کيوں بانٹتے ہيں؟

 

 

۔۔۔ ابن انشاء – اردو کی آخری کتاب ۔۔۔

تبصرہ کریں

میری ماں

ماں کی ممتا، چاند کی ٹھنڈک، شیتل شیتل نور
اسکی چھایا میں تو جلتی دھوپ بھی ہو کافور

بچپن سے یہ درس دئیے کہ دکھ نہ کسی کو دو
اپنا درد چھپائے اس کا درد نہ جانے کو

سُچی، صاف کھری اور سچی اس کی ہر اک بات
رہ میں نور بکھیرے اس کی اجلی اجلی ذات

وِیروں پہ قربان یہ اپنی بہنوں کی غمخوار
کوئی کرے یا نہ پر اس کے دل میں گہرا پیار

غم کی آندھی آئے یا ہو مشکل کا طوفان
ہر بپتا کو ایسے جھیلے ھیسے ایک چٹان

اس میں اَنا کا روپ بھی ہے خودداری کی بھی شان
سر نہ جھکے بندے کے آگے اس کا ہے ایمان

چہرہ ساکن سینے میں پر اٹھیں لاکھ ابال
جانے والے چلے گئے پتھر میں دراڑیں ڈال

مالک اس چھتناور پیڑ کی سدا رہے ہریالی
اس بگیا کی خیر ہو داتا تو ہی اس کا والی

۔۔۔ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم ۔۔۔

تبصرہ کریں

آسمان

ذرا نظر اٹھا کر آسمان کي طرف ديکھو، کتنا اونچا ہے۔ يہي وجہ ہے کہ کوئي اس سے گرے تو بہٹ چوٹ آتي ہے ۔بعض لوگ آسمان سے گرے ہيں تو کھجور ميں اٹک جاتے ہيں ۔نہ نيچے اتر سکتے ہيں ، نہ دوبارہ آسمان پر چڑھ سکتے ہيں ۔وہيں بيٹھے کھجوريں کھاتے رہتے ہيں۔ليکن کھجوريں بھي تو کہيں کہیں ہوتي ہيں۔ ہر جگہ نہيں ہوتيں۔ کہتے ہيں پہلے زمانے ميں آسمان اتنا اونچا نہيں ہوتا تھا۔ غالب نام کا شاعر جو سو سال پہلے ہوا ہے ۔ايک جگہ کسي سے کہتا ے۔ کيا آسمان کے بھي برابر نہيں ہوں ميں؟ جوں جوں چيزوں کي قيمتيں اونچي ہوتي گئيں آسمان ان سے باتيں کرنے کے لئے اونچا اٹھتا چلا گيا۔ اب نہ چيزوں کي قيمتيں نيچے آئيں نہ آسمان نيچے اترے۔ايک زمانے ميں آسمان پر صرف فرشتے رہا کرتے تھے۔پھر ہمہ شما جانے لگے جو خود نہ جا سکتے تھے ان کا دماغ چلا جاتا تھا۔ يہ نيچے زمين پر دماغ کے بغير ہي کام چلاتے تھے ۔بڑي حد تک اب بھي يہي صورت ۔راہ چلتے ميں آسمان کي طرف نہيں ديکھنا چاھئيے تا کہ ٹھوکر نہ لگے جو زمين کي طرف ديکھ کر چلتا ہے اس کے ٹھوکر نہيں لگتي۔

 

۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔

تبصرہ کریں

سزائے موت کا مژدہ

یہ وہ ساحر ہے جن کے ہاتھ میں ہم سب کی جانیں ہیں
یہاں سورج کے قاتل کو عدالت چھوڑ دیتی ہے
سزائے موت کا مژدہ
نہ کوئی قید ہوتی ہے
جو سورج کو قتل کرتا ہے اس کو روشنی
تقسیم کرنے کی وزارت سونپ دیتے ہیں
یہ تاریکی کے سوداگر ہیں
سورج بلیک کرتے ہیں
انہیں ضد ہے ہوائیں، روشنی اور خواب خود بانٹیں
یہ موسم قرض دیتے ہیں
انہیں معلوم ہے کس کو کہاں مصروف رکھنا ہے
کسے آزاد رکھنا ہے
کہاں یہ جبر کا موسم، کہاں رت ہو حکومت کی
یہ ساحر بند کمروں میں یہی اجلاس کرتے ہیں

۔۔۔ طلعت اخلاق ۔۔۔

Comments (1)