میری ماں

ماں کی ممتا، چاند کی ٹھنڈک، شیتل شیتل نور
اسکی چھایا میں تو جلتی دھوپ بھی ہو کافور

بچپن سے یہ درس دئیے کہ دکھ نہ کسی کو دو
اپنا درد چھپائے اس کا درد نہ جانے کو

سُچی، صاف کھری اور سچی اس کی ہر اک بات
رہ میں نور بکھیرے اس کی اجلی اجلی ذات

وِیروں پہ قربان یہ اپنی بہنوں کی غمخوار
کوئی کرے یا نہ پر اس کے دل میں گہرا پیار

غم کی آندھی آئے یا ہو مشکل کا طوفان
ہر بپتا کو ایسے جھیلے ھیسے ایک چٹان

اس میں اَنا کا روپ بھی ہے خودداری کی بھی شان
سر نہ جھکے بندے کے آگے اس کا ہے ایمان

چہرہ ساکن سینے میں پر اٹھیں لاکھ ابال
جانے والے چلے گئے پتھر میں دراڑیں ڈال

مالک اس چھتناور پیڑ کی سدا رہے ہریالی
اس بگیا کی خیر ہو داتا تو ہی اس کا والی

۔۔۔ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم ۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: