بارش

بارش کی آواز کو سن کر
,پیڑوں کی آغوش میں سہمی شاخیں جھومنے لگتی ہیں
گردِ ملال میں لپٹے پتے، جاگ اٹھتے ہیں
اور ہوا کی پینگوں میں سرگوشیاں جھولنے لگتی ہیں
کھڑکی کی شیشوں پر جس دم پہلی بوندیں پڑتی ہیں تو
بارش کی آواز گھروں میں خوشبو بن کر در آتی ہے
دنیا کے بے انت دکھ اور اندیشوں کی
اُڑتی مٹی بیٹھتی ہے اور
بجھے دلوں کی اقلیموں میں شمعیں جلنے لگتی ہیں
راہیں چلنے لگتی ہیں
بارش کی آواز کو سن کر
سینے کے آنگن میں رکھے بوجھ کی ڈھیری
ہولے ہولے گھٹتی ہے تو سانسیں ہلکی ہوجاتی ہیں
رم جھم کی آواز میں جیسے سب آوازیں کھو جاتی ہیں
بارش کی آواز کو سن کر
جاگتی آنکھیں
سپنوں کی دہلیز سے اپنے ریزہ ریزہ خواب اٹھائے
اور انہیں ترتیب میں لانے لگتی ہیں
مٹتی بنتی تصویریں، پھر دھیان میں آنے لگتی ہیں
!بارش کی آواز کو سن کر

۔۔۔ امجد اسلام امجد ۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: