غزل

جس سر کو غرور آج ہے ياں تاج وري کا
کل اس پر يہيں شور ہے پھر نوحہ گري کا

آفاق کي منزل سے گيا کون سلامت
اسباب لٹا راہ ميں ياں ہر سفري کا

زنداں ميں بھي شورش نہ گئ اپنے جنوں کي
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سري کا

لے سانس بھي آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کي اس کار گہ شيشہ گري کا

ٹک مير جگر سوختہ کي جلد خبر لے
کيا يار بھروسہ ہے چراغ سحري کا

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: