Archive for جولائی, 2006

بھارت

يہ بھارت ہے، گاندھي جي يہي پيدا ھوئے تھے، لوگ ان کي بڑي عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چناچہ مار کر ان کو يہي دفن کر ديا اور سمادھي بنا دي، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہيں تو اس پر پھول چڑھاتے ھيں، اگر گاندھي جي نہ مرتے يعني نہ مارے جاتے تو پورے ھندوستان ميں عقيدت مندوں کيلئے پھول چڑھانے کي کوئي جگہ نہ تھي۔ يہي مسئلہ ہمارے يعني پاکستان والوں کے لئے بھي تھا، ہميں قائد اعظم کا ممنون ہونا چاہئيے کہ خود ہي مرگئے اور سفارتي نمائندوں کے پھول چڑھانے کي ايک جگہ پيدا کردي ورنہ شايد ہميں بھي ان کو مارنا ہي پڑتا۔

بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت يہ ہے کہ اکثر ہمسايہ ملکوں کے ساتھ اس کے سيز فائر کے معاہدے ہوچکے ھيں،١٩٦٥ ميں ہمارے ساتھ ھوا اس سے پہلے چين کے ساتھ ھوا۔

بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتي اس کا دودھ پيتے ہيں، اسي کے گوبر سے چوکا ليپتے ہيں، اور اس کو قصائي کے ہاتھ بيچتے ہيں، اس لئيے کيونکہ وہ خود گائے کو مارنا يا کھانا پاپ سمجھتے ہيں۔

آدمي کو بھارت ميں مقدس جانور نہيں گنا جاتا۔

بھارت کے بادشاہوں ميں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہيں۔ اشوک سے ان کي لاٹ اور دھلي کا اشوکا ھوٹل يادگار ھيں، اور نھرو جي کي يادگار مسئلہ کشمير ہے جو اشوک کي تمام يادگاروں سے زيادہ مظبوط اور پائيدار معلوم ہوتا ہے ۔

راجہ نہرو بڑے دہر مہاتما آدمي تھے، صبح سويرے اٹھ کر شيرشک آسن کرتے تھے، يعني سر نيچے اور پير اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا ديکھنے کي عادت ہوگئي تھي۔ حيدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعايا کے نقطہ نظر سے اور کشمیر کو راجہ کے ۔ يوگ ميں طرح طرح کے آسن ہوتے ھيں، نا واقف لوگ ان کو قلابازياں سمجھتے ہيں، نہرو جي نفاست پسند بھي تھے دن ميں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے۔

۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔

تبصرہ کریں

ايک دعا

يا اللہ
کھانے کو روٹي دے
پہننے کو کپڑا دے
رہنے کو مکان دے
عزت اور آسودگي کي زندگي دے
مياں يہ بھي کوئي مانگنے کي چيزیں ہيں؟
کچھ اور مانگا کر
بابا جي آپ کيا مانگتے ہيں؟
ميں؟
ميں يہ چيزيں نہيں مانگتا
ميں تو کہتا ہوں
اللہ مياں مجھے ايمان دے
نيک عمل کرنے کي توفيق دے
بابا جي آپ ٹھيک مانگتے ہيں
انسان وہي چيز تو مانگتا ہے
جو اس کے پاس نہيں ہوتي

۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔

تبصرہ کریں

بارہواں کھلاڑی

خوشگوار موسم میں
ان گنت تماشائی
اپنی اپنی ٹیموں کو
داد دینے آتے ہیں
اپنے اپنے پیاروں کا
حوصلہ بڑھاتے ہیں
میں الگ تھلگ سب سے
بارہویں کھلاڑی کو
ہوٹ کرتا رہتا ہوں
بارہواں کھلاڑی بھی
کیا عجب کھلاڑی ہے
کھیل ہوتا رہتا ہے
شور مچتا رہتا ہے
داد پڑتی رہتی ہے
اور وہ الگ سب سے
انتظار کرتا رہتا ہے
ایک ایسی ساعت کا
ایک ایسے لمحے کا
جس میں سانحہ ہوجائے
پھر وہ کھیلنے نکلے
تالیوں کے جھرمٹ میں
ایک جملہءِ خوش کن
ایک نعرہءِ تحسین
اس کے نام پر ہوجائے
سب کھلاڑیوں کے ساتھ
وہ بھی معتبر ہوجائے
پر یہ کم ہی ہوتا ہے
پھر بھی لوگ کہتے ہیں
کھیل سے کھلاڑی کا
عمر بھر کا رشتہ ہے
عمر بھر کا یہ رشتہ
چھوٹ بھی تو سکتا ہے
آخری وِسل کے ساتھ
ڈوب جانے والا دل
ٹوٹ بھی تو سکتا ہے
تم بھی افتخار عارف
بارہویں کھلاڑی ہو
انتظار کرتے ہو
ایک ایسے لمحے کا
ایک ایسی ساعت کا
جس میں حادثہ ہوجائے
جس میں سانحہ ہوجائے
تم بھی افتخار عارف
تم بھی ڈوب جاؤ گے
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے

۔۔۔افتخار عارف ۔۔۔

تبصرہ کریں

دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت

دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت
جو ہوگئے ہو فسانہ تو ۔۔۔ یاد آؤ مت

خیال و خواب میں پرچھائیاں سی ناچتی ہیں
اب اس طرح تو مرے روح میں سماؤ مت

زمیں کے لوگ تو کیا دو دلوں کی چاہت میں
خدا بھی ہو تو اسے درمیان لاؤ مت

تمہارا سَر نہیں طفلان رہ گزر کے لئیے
دیارِسنگ میں گھر سے نکل کے جاؤ مت

سوائے اپنے کسی کے بھی ہو نہیں سکتے
ہم اور لوگ ہیں لوگو ہمیں ستاؤ مت

ہمارے عہد میں یہ رسمِ عاشقی ٹھہری
فقیر بن کے رہو اور صدا لگاؤ مت

وہی لکھو جو لہو کی زباں سے ملتا ہے
سخن کو پردہِ الفاظ میں چھپاؤ مت

سپرد کر ہی دیا آتشِ ہنر کے تو پھر
تمام خاک ہی ہوجاؤ کچھ بچاؤ مت

۔۔۔ عبید اللہ علیم ۔۔۔ ١٩٦٥ ۔۔۔

تبصرہ کریں

کوئی آس کہیں رہ جاتی ہے

کوئی پیاس کہیں رہ جاتی ہے
کوئی لاکھ سمندر پی جائے
کوئی لاکھ ستارے چھو آئے
کوئی پیاس کہیں رہ جاتی ہے
کوئی آس کہیں رہ جاتی ہے
کوئی زیست کا ساغر بھرتا ہے
کوئی پھِر خالی ہو جاتا ہے
کوئی لمحے بھر کو آتا ہے
کوئی پل بھر میں کھو جاتا ہے
کوئی پیاس کہیں رہ جاتی ہے
کوئی آس کہیں رہ جاتی ہے

۔۔۔ عبیداللہ علیم ۔۔۔ ١٩٩٠ ۔۔۔

تبصرہ کریں

کسی اور کو یہ پتہ نہ ہو۔۔۔

میرے ساتھ تم بھی دعا کرو ، یوں کسی کے حق میں برا نہ ہو
کہیں اور ہو نہ یہ حادثہ ، کوئی راستے میں جدا نہ ہو

میرے گھر سے راستے کی سیج تک ، وہ اک آنسو کی لکیر ہے
ذرا بڑھ کے چاند سے پوچھنا ، وہ اسی طرف سے گیا نہ ہو

سر شام ٹھری ہوئی زمیں ، آسماں ہے جھکا ہوا
اسی موڑ پر مرے واسطے ، وہ چراغ لے کر کھڑا نہ ہو

وہ فرشتے آپ ہی ڈھونڈیئے ، کہانیوں کی کتاب میں
جو برا کہیں نہ برا سنیں ، کوئی شخص ان سے خفا نہ ہو

وہ وصال ہو کہ فراق ہو ، تری آگ مہکے گی ایک دن
وہ گلاب بن کے کھلے گا کیا، جو چراغ بن کے جلا نہ ہو

مجھے یوں لگا کے خاموش خوشبو کے ہونٹ تتلی نے چھو لیے
انہی زرد پتوں کی اوٹ میں کوئی پھول سویا ہوا نہ ہو

اسی احتیاط میں میں رہا اسی احتیاط میں وہ رہا
وہ کہاں کہاں میرے ساتھ ہے ، کسی اور کو یہ پتہ نہ ہو

Comments (2)

ایک شخص

کوئی ایک شخص تو یوں ملے کہ سکوں ملے
کوئی ایک لفظ تو ایسا ہو کہ قرار ہو
کہیں ایسی رت بھی ملے ہمیں جو بہار ہو
کبھی ایسا وقت بھی آئے کہ ہمیں پیار ہو!

کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔
کہ چراغِ جاں اسے نور دے، اسے تاب دے، بنے کہکشاں
کائی غم ہو جس کو قبا کریں غمِ جاوداں
کوئی یوں قدم کو ملائے کہ بنے کارواں

کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔ کہ قرار ہو
میری راہِ گزرِ خیال میں کوئی پھول ہو
میں سفر میں ہوں مرے پاؤں پہ کبھی دھول ہو
مجھے شوق ہے مجھ سے بھی کبھی کوئی بھول ہو
!غمِ ہجر ہو، شبِ ناز ہو، بڑا طول ہو۔۔۔

کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔ کہ قرار ہو
کہ جو عکسِ ذات ہو، ہو بہو میرا آئینہ، میرے رو برو
کوئی ربط کہ جس میں نا مَیں، نہ تُو
!سرِ خامشی کوئی گفتگو ۔۔۔

کوئی ایک شخص تو یوں ملے کہ سکوں ملے

بشکریہ اُنائیزہ

Comments (4)

Older Posts »