دلِ محترم کوئی اور غم ؟

اک دل کا درد ہے کہ رہا زندگی کے ساتھ
اک دل کا چین تھا کہ سدا ڈھونڈتے رہے

ہر جلوہ مقابل نظر آتا ہے مجھے
ذرہ بھی تو منزل نظر آتا ہے مجھے
فیضانِ غمِ یار کے قربان جاؤں
ہر پھول میں اک دل نظر آتا ہے مجھے

خدا کرے میری طرح تیرا کسی پہ آئے دل
تو بھی جگر کو تھام کے کہتا پھرے کہ ہائے دل
روندو نہ میری قبر کو اِس میں دبی ہیں حسرتیں
رکھنا قدم سنبھال کے دیکھو کچل نہ جائے دل

ظرف کی بات ہے کانٹوں کی خلش دل میں لئے
لوگ ملتے ہیں ترو تازہ گلابوں کی طرح

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: