احمد نديم قاسمي کي ايک غزل

مروں تو ميں کسي چہرے ميں رنگ بھر جاؤں
نديم کاش يہي ايک کام کر جاؤں

يہ دشتِ ترکِ محبت، يہ تيرے قرب کي پياس
جو اذن ہو تو تيري ياد سے گزر جاؤں

ميرا وجود ميري روح کو پکارتا ہے
تيري طرف بھي چلوں تو ٹھر ٹھر جاؤں

تيرے جمال کا پر تو ہے سب حسينوں پر
کہاں کہاں تجھے ڈھونڈوں کدھر کدھر جاؤں

ميں زندہ تھا کہ تيرا انتظار ختم نہ ہو
جو تو ملا ہے تو اب سوچتا ہوں مر جاؤں

يہ سوچتا ہوں کہ ميں بت پرست کيوں نہ ہوا
تجھے قريب جو پاؤں تو خدا سے ڈر جاؤں

کسي چمن ميں بس اس خوف سے گزر نہ ہوا
کسي کلي پہ نہ بھولے سے پاؤں دھر جاؤں

يہ جي ميں آتا ہے کہ تخليقِ فن کے لمحوں ميں
کہ خون بن کے رگِ سنگ میں اتر جاؤں

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: