ایک سوال

میرے آباؤ اجداد نے حرمتِ آدمی کے لیے
تاابد روشنی کے لیے
کلمہِ حق کہا
مقتلوں، قید خانوں، صلیبوں میں بہتا لہو
ان کے ہونے کا اعلان کرتا رہا
وہ لہو آدمی کی ضمانت بنا
تاابد روشنی کی علامت بنا
اور میں پابرہنہ سرِ کوچہِ احتیاج
رزق کی مصلحت کا اسیر آدمی
سوچتا رہ گیا
جسم میں میرے ان کا لہو ہے تو پھر یہ لہو بولتا کیوں نہیں؟

۔۔۔ افتخار عارف ۔۔۔

Advertisements

1 تبصرہ »

  1. اجمل said

    اگلے لوگوں کی ضرورتيں کم تھيں اور عمل زيادہ ۔ آج ضرورتيں زيادہ ہيں اور عمل کم

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: