دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت

دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت
جو ہوگئے ہو فسانہ تو ۔۔۔ یاد آؤ مت

خیال و خواب میں پرچھائیاں سی ناچتی ہیں
اب اس طرح تو مرے روح میں سماؤ مت

زمیں کے لوگ تو کیا دو دلوں کی چاہت میں
خدا بھی ہو تو اسے درمیان لاؤ مت

تمہارا سَر نہیں طفلان رہ گزر کے لئیے
دیارِسنگ میں گھر سے نکل کے جاؤ مت

سوائے اپنے کسی کے بھی ہو نہیں سکتے
ہم اور لوگ ہیں لوگو ہمیں ستاؤ مت

ہمارے عہد میں یہ رسمِ عاشقی ٹھہری
فقیر بن کے رہو اور صدا لگاؤ مت

وہی لکھو جو لہو کی زباں سے ملتا ہے
سخن کو پردہِ الفاظ میں چھپاؤ مت

سپرد کر ہی دیا آتشِ ہنر کے تو پھر
تمام خاک ہی ہوجاؤ کچھ بچاؤ مت

۔۔۔ عبید اللہ علیم ۔۔۔ ١٩٦٥ ۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: