بھارت

يہ بھارت ہے، گاندھي جي يہي پيدا ھوئے تھے، لوگ ان کي بڑي عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چناچہ مار کر ان کو يہي دفن کر ديا اور سمادھي بنا دي، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہيں تو اس پر پھول چڑھاتے ھيں، اگر گاندھي جي نہ مرتے يعني نہ مارے جاتے تو پورے ھندوستان ميں عقيدت مندوں کيلئے پھول چڑھانے کي کوئي جگہ نہ تھي۔ يہي مسئلہ ہمارے يعني پاکستان والوں کے لئے بھي تھا، ہميں قائد اعظم کا ممنون ہونا چاہئيے کہ خود ہي مرگئے اور سفارتي نمائندوں کے پھول چڑھانے کي ايک جگہ پيدا کردي ورنہ شايد ہميں بھي ان کو مارنا ہي پڑتا۔

بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت يہ ہے کہ اکثر ہمسايہ ملکوں کے ساتھ اس کے سيز فائر کے معاہدے ہوچکے ھيں،١٩٦٥ ميں ہمارے ساتھ ھوا اس سے پہلے چين کے ساتھ ھوا۔

بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتي اس کا دودھ پيتے ہيں، اسي کے گوبر سے چوکا ليپتے ہيں، اور اس کو قصائي کے ہاتھ بيچتے ہيں، اس لئيے کيونکہ وہ خود گائے کو مارنا يا کھانا پاپ سمجھتے ہيں۔

آدمي کو بھارت ميں مقدس جانور نہيں گنا جاتا۔

بھارت کے بادشاہوں ميں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہيں۔ اشوک سے ان کي لاٹ اور دھلي کا اشوکا ھوٹل يادگار ھيں، اور نھرو جي کي يادگار مسئلہ کشمير ہے جو اشوک کي تمام يادگاروں سے زيادہ مظبوط اور پائيدار معلوم ہوتا ہے ۔

راجہ نہرو بڑے دہر مہاتما آدمي تھے، صبح سويرے اٹھ کر شيرشک آسن کرتے تھے، يعني سر نيچے اور پير اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا ديکھنے کي عادت ہوگئي تھي۔ حيدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعايا کے نقطہ نظر سے اور کشمیر کو راجہ کے ۔ يوگ ميں طرح طرح کے آسن ہوتے ھيں، نا واقف لوگ ان کو قلابازياں سمجھتے ہيں، نہرو جي نفاست پسند بھي تھے دن ميں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے۔

۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: