پرانی کتاب میں رکھی تصریر سے باتیں

پرانی کتاب میں رکھی تصریر سے باتیں
آج برسوں کے بعد دیکھا ہے

اب بھی آنکھوں کا رنگ گہرا ہے
اور ماتھے کی سانولی سی لکیر

دل میں کتنے دئیے جلاتی ہے
تیری قامت کے سائے کی خوشبو

گفتگو میں بہار کا موسم
بے سبب اعتبار کا موسم

کیوں مجھے سارے ڈھنگ یاد رہے
کتنی حیراں ہو گئی خود پر

میں تجھے آج تک نہیں بھولی
پچھلے موسم کی یاد باقی ہے

۔۔۔ نوشی گیلانی ۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: