زندگی

زندگی سے ڈرتے ہو؟

,زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں

آدمی سے ڈرتے ہو؟

آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں

آدمی زبان بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے

!اس سے تم نہیں ڈرتے

,حروف اور معنی کے رشتہِ ہائے آہن سے

,آدمی ہے وابستہ

,آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ

!اس سے تم نہیں ڈرتے

,ان کہی“ سے ڈرتے ہو ”

جو ابھی نہیں آئی، اُس گھڑی سے ڈرتے ہو

اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو

۔۔۔ پہلے بھی تو گزرے ہیں

دور نارسائی کے، بے ریا خدائی کے

پھر بھی یہ سمجھتے ہو، ہیچ آرزومندی

یہ شبِ زباں بندی، ہے رہِ خداوندی

تم مگر یہ کیا جانو

لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں

ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں، راہ کا نشاں بن کر

نور کی زباں بن کر

ہاتھ بول اٹھتے ہیں، صبح کی اذاں بن کر

روشنی سے ڈرتے ہو؟

روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں

روشنی سے ڈرتے ہو

شہر کی فصیلوں پر

دیو کا جو سایا تھا پاک ہو گیا آخر

رات کا لبادہ بھی

چاک ہو گیا آخر، خاک ہو گیا آخر

رات کا لبادہ بھی

اژدھامِ انساں سے فرد کی نوا آئی

ذات کی صدا آئی

راہِ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے

اک نیا جنوں لپکے

آدمی چھلک اٹھے

آدمی ہنسے ۔۔۔

دیکھو، شھر پھر بسے ۔۔۔ دیکھو

تم ابھی سے ڈرتے ہو؟

Advertisements

1 تبصرہ »

  1. خوب!!!

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: