دل کی دنیا میں کبھی ایسا بھی سناٹا نہ تھا

دل کی دنیا میں کبھی ایسا بھی سناٹا نہ تھا
ہم ہی ساکت ہو گۓ تھےوقت تو ٹھہرا نہ تھا

یہ بجا ! کہ وسوسے بھی دل میں اٹھتے تھے مگر
یوں بھی ھوجاۓ گا ایسا تو کبھی سوچا نہ تھا

وسوسے تھے، خوف تھا، ڈر بھی تھا، اندیشے بھی تھے
اتنا روشن چاند پہلے ڈوبتے دیکھا تو نہ تھا

ضرب کاری تھی بہت آخر شکستہ ہوگیا
دل ہی تھا پہلو میں پتھر کا کوئ ٹکڑا نہ تھا

اسکے سینے میں اگر ہو درد کی دنیا تو ہو
اسکے چہرے پر کسی بھی کرب کا سایہ نہ تھا

تھا بہاروں کا پیامی اس کے چہرے کا گلاب
مشکلوں کے ریگزار میں بھی کملایا نہ تھا

وہ ترو تازہ، شگفتہ، خنداں، روشن، دلربا
بھول جاؤں میں جسے ایسا تو وہ چہرہ نہ تھا

گرد جسکے کھینچ رکھا تھا حفاظت کا حصار
چھوڑ کے کیسے اسے تنہا یہاں رخصت ہوا

یا الہی کیا کروں دل حوصلہ پاتا نہیں
جس کو نظریں ڈھونڈتی ہیں وہ نظر آتا نہیں

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: