بڑا پانی


اگرچہ ۔۔۔ جھیلوں اور ایسے بڑے پانیوں کے دوسرے کنارے ہمیشہ زیادہ حسین اور دلفریب دکھائی دیتے ہیں لیکن اس بڑے پانی کا یہ کنارہ جہاں ہم تھے ۔۔۔ بقول یوسف بس “غدر“ تھا ۔۔۔ بڑے پانی کی گہری نیلگوں ندی سے بلند اس کنارے کی جو ہموار سطح تھی وہاں جو گھاس سرسراتی تھی ۔۔۔ وہ دوپہر کی دھوپ میں مایا زیوروں کے سنہری پن اور ساسانی جام کے سونے کی قدامت سے بھی بڑھ کر سنہری اور روشن تھی ۔۔۔ اس کی زرد خزاں رنگت ایسی تھی کہ اس پر دنیا کا سب سے بڑا مصور بھی اگر صرف ایک سٹروک لگا کر اس کے حسنِ کرشمہ ساز کو مکمل کرنا چاہے ۔۔۔ وہ بے شک چاند کے زرد تھال میں سے رنگ نکال لے ۔۔۔ ابھرتے سورج کی زردی میں اپنا برش ڈبو لے ۔۔۔ تب بھی اسے بڑے پانی کی اس سنہری گھاس میں کہیں سے ایک ایسا مقام نہیں ملے گا جس پر وہ یہ سٹروک لگا کر تصویر کو مکمل کرے ۔۔۔ کیونکہ تصویر تکمیل کی حدوں سے بھی آگے جا کر اپنی زردی اور سنہرے پن میں ۔۔۔ کسی بھی مصور کے بس سے باہر ہو چکی تھی ۔۔۔

۔۔۔ مستنصر حسین تاڑر کی “دیوسائی“ سے اک اقتباس ۔۔۔

تصویر کے لئیے آوارہ کا شکریہ

Advertisements

1 تبصرہ »

  1. Raza said

    مزہ آگیا آپکی یہ پوسٹ پڑھ کر۔

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: