يونہی ہنسی ہنسی میں

يونہی ہنسی ہنسی میں
ہم دلوں سے کھیل جاتے ہیں
کوئی چھوٹی سی تيکھی بات
کوئی چبھتا ہوا جملہ
کوئی زہر آلود لہجہ
کوئی بے ضرر سي ذو معنی بات
سننے والے کے دل پر گھاؤ لگا جاتی ہے
پھر کتنی ہی تلافی کے مرہم لگاؤ
قطرہ قطرہ خون ٹپکتا ہی رہتا ہے
وہ آنسو جو آنکھ سے گِرتا ہی نہیں
اندر ہی اندر جم جاتا ہے
برف پہ گرے قطرے کی طرح
اور برف تو شايد وقت کی گرمی سے پگھل جاتي ہے
مگر وہ قطرہ جب بھی پگھلنے لگتا ہے پھیل جاتا ہے
بڑھ جاتا ہے
بس ختم نہیں ہوتا
اور يونہی ہنسی ہنسی میں ہم دلوں سے کھیل جاتے ہیں

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: