Archive for ستمبر, 2006

میں اور میری آوارگی

پھرتے ہیں کب سے دربدر، اب اس نگر اب اُس نگر
اک دوسرے کے ہمسفر، میں اور میری آوارگی
ناآشنا ہر رہگزر، نامہرباں ہر اک نظر
جائیں تو اب جائیں کدھر، میں اور میری آوارگی

ہم بھی کبھی آباد تھے ایسے ۔۔۔ کہاں برباد تھے
بےفکر تھے، آزاد تھے، مسرور تھے، دلشاد تھے
وہ چال ایسی چل گیا ہم بجھ گئے دل جل گیا
نکلے جلا کے اپنا گھر، میں اور میری آوارگی

جینا بہت آساں تھا، اک شخص کا احسان تھا
ہم کو بھی اک ارمان تھا جو خواب کا سامان تھا
اب خواب ہے نہ آرزو، ارمان ہے نہ جستجو
یوں بھی چلو خوش ہیں مگر میں اور میری آوارگی

وہ مہوش وہ ماہ رو، وہ ماہِ کامل ہوبہو
تھیں جسکی باتیں کوبکو، اس سے عجب تھی گفتگو
پھر یوں ہوا وہ کھو گئی تو مجھکو ضِد سی ہوگئی
لائیں گے اسکو ڈھونڈ کر میں اور میری آوارگی

یہ دل ہی تھا جو سہہ گیا وہ بات ایسی کہہ گیا
کہنے کو پھر کیا رہ گیا، اشکوں کا دریا بہہ گیا
جب کہہ کے وہ دلبر گیاترے لئیے میں مر گیا
روتے ہیں اسکو رات بھر، میں اور میری آوارگی

اب غم اٹھائیں کس کے لئیے، آنسو بہائیں کس کے لئیے
یہ دل جلائیں کس کے لئیے، یوں جان گنوائیں کس کے لئیے
پیشہ نہ ہو جسکا ستم، ڈھونڈیں گے اب ایسا صنم
ہوں گے کہیں تو کارگر، میں اور میری آوارگی

آثار ہیں سب کھوٹ کے، امکان ہیں سب چھوٹ کے
گھر بند ہیں سب گھٹ کے، اب ختم ہیں سب ٹوٹ کے
قسمت کا سب یہ پھیر ہے، اندھیر ہے اندھیر ہے
ایسے ہوئے ہیں بےآثار، میں اور میری آوارگی

جب ہمدم و ہمراز تھا تب اور ہی انداز تھا،
اب سوز ہے تب سازتھا، اب شرم ہے تب ناز تھا
اب مجھ سے ہو تو ہو بھی کیا، ساتھ ہو وہ تو وہ بھی کیا
اک بے ہنر، اک بےثمر، میں اور میری آوارگی

۔۔۔ جاوید اختر ۔۔۔

عکس کے بلاگ سے

Advertisements

Comments (2)

ٹیلی گرام -از جوگندر پال

پچھلے بارہ برس سے شیام بابوتار گھر میں کام کررہا ہے ، لیکن ابھی تک یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ بے حساب الفاظ برقی تاروں میں اپنی اپنی پوزیشن میں جوں کے توں کیوں کربھاگتے رہتے ہیں ، کبھی بدحواس ہوکرٹکر کیوں نہیں جاتے ؟ ٹکراجائیں تو لاکھوں کروڑوں ٹکراتے ہی دم توڑدیں اورباقی کے لاکھوں کروڑوں کی قطاریں ٹوٹ جائیں تو وہ اپنی سمجھ بوجھ سے نئے رشتوں میں منسلک ہوکرکچھ اس حالت میں ری سیونگ سٹیشنوں پر پہنچیں ” بیٹے نے ماں کو جنم دیا ہے سٹاپ مبارک یاد !“یا”چوروں نے قانون کو گرفتار کرلیا ہے ۔“ یا ” افسوس کہ زندہ بچہ پیدا ہوا ہے ۔“یا ……..ہاں اس میں کیا مضائقہ ہے ؟ ……..شیام بابو مشین کی طرح بے لاگ ہوکر میکانکی انداز میں برقی پیغامات کے کوڈ کو رومن حروف میں لکھتا جارہا ہے لیکن اس مشین کے اندر ہی اندر ان بوکھلائی ہوئی انسانی سوچوں کا تالاب بھر رہا ہے ……..کیا مضائقہ ہے ؟ جیسی زندگی ، ویسے پیغام ……..” کرتا ہوں سٹاپ کشور “ اس نے کسی کشور کے تار کے کوڈ ے آخری الفاظ کاغذ پر اتار لئے ہیں اوروہ اس بات سے برآمد ہوتے ہوئے ایک ایک لفظ کوقلم بند کرتا جائے ۔ سوچنا سمجھنا اس کا کام ہے جس کے نام پیغام موصول ہوا جو ……..دھیرج !…. دھیرج کو کوئی پکارے تو آواز کو تو سارا ہجوم سن لیتا ہے لیکن صرف دھیرج ہی مڑ کردیکھتا ہے کہ کیا ہے ……..خلاف معمول نہ معلوم کیا سوچ کر شیام بابوتار کا مضمون پڑھنے لگا ہے ……..”شادی روک لو سٹاپ میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں سٹاپ کشور “ وہ ہنس پڑا ہے ……..و دوسرے ہنگامے میں ۔ بے چارہ تھوڑی سی محبت کرکے باقی محبت کرنا بھول گیا ہوگا ، مگر اب کوئی راہ نہیں سوجھ رہی ہے تو باقی سب کچھ چھوڑ چھاڑکر محبت ہی محبت کئے جانے کا اعلان کررہا ہے ۔محبت ہی محبت کرنے سے کیا ہوتا ہے بے بی ؟طلاق ، ڈارلنگ !طلاق ہوجائے مگر محبت قائم رہے ۔اور۔!……..شیام بابو ای اور تار کا یہ مضمون پڑھنے لگا ہے ……..میں آپ کو موت کی خبر پاکرمجھے بے حد دکھ ہوا ہے ……..شیام بابو پھرہنس دیا ہے ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ، اپنے باپ کی موت پر مجھے اتنا افسوس ہوا ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ۔تو کیوں کررہے ہو بھائی ؟تاکہ میرا رونا نکل آئے ۔ آئیے ،آپ بھی میرے ساتھ روئیے ۔سمجھ میں نہیںآرہا ہے کہ بندروں کو چپ کیسے کرایا جائے ۔ سب کے سب روتے ہی چلے جارہے ہیں ۔ارے بھائی ،کیوں رو رہے ہو ؟مجھے کیا پتہ ؟ اس سے پوچھو ۔تم ہی بتا دوبھائی ، کیوں رو رہے ہو ؟مجھے کیا پتہ ؟ اس سے پوچھو ۔تم …………؟مجھے کیا پتہ ؟تم تو آخری بندر ہو بھائی ….بتاؤ ، کیوں رو رہے ہو ؟۔
بس یوں ہی سوچا کہ ذرافرصت میسر آئی ہے تو ایک بارجی جان سے رولوں ۔ میرا ایک کام کیجئے ۔ آپ کو زحمت تو ہوگی ، مگر میرے رونے کو کسی تگڑی سی الم ناک خبر میں پیش کرنے کے لئے ایک ارجنٹ ٹیلی گرام کا ڈرافٹ تیار کردیجئے لکھئے ……..میری ماں مرگئی ہے ……..ٹھہرئیے ، وہ تو غریب اسی روز مرگئی تھی جب بیوہ ہوئی تھی اس دن سے ہم نے اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا ……..لکھئے ، میرا بھائی مرگیا ہے ……..ہاں ، یہی لکھئے ……..مگر نہیں ، سب کو معلوم ہے کہ ہماری آپس میں بالکل نہیں نبتی ……..میری بہن ……..نہیں ،وہ تو پہلے ہی مرچکی ہے ……..میں ……..ارے ہاں ! یہی لکھئے ،میں ہی مرگیا ہوں ۔ مجھے سب کو فوری طورپر خبر کرنا ہے کہ میں ہی مرگیا ہوں ۔مبارک باد پیش کرتا ہوں سٹاپ ……..شیام بابو کے خود کار قلم نے جلدی جلدی لکھا اوروہ اپنی تحریری سے بے خبر سا سوچ رہا ہے ، مجھے دیکھ کرکون کہہ سکتا ہے کہ میں زندہ ہوں ۔ میں زندہ ہوں تو یہ میز بھی زندہ ہے جس پرجھک کر میں اپنا کام کئے جارہا ہوں ۔ چونکہ یہ میز کھائے پئے سوئے بغیر زندہ رہ سکتی ہے ۔ اس لئے اس کی ڈیوٹی یہ ہے کہ ہمارے دفتر کے اس کمرے میں چوبیس گھنٹے خدمت بجا لانے کے لئے اپنی چاروں ٹانگوں پر کھڑی رہے ، اورمجھے چونکہ اپنی مشین کی ٹک ٹک کو بھی چلائے رکھنا ہوتا ہے اس لئے میرے لئے یہ آرڈر ہے کہ آٹھ گھنٹے یہاں ڈٹ کرکام کرو او ر باقی وقت میں اپنی مشین کی دیکھ بھال کے سارے دھندے سنبھالو ……..ہاں ، یہی تو ہے ۔ میں جیتا کہاں ہوں ؟ دفتر میں تو صرف پروڈیکشن کا کام ہے ۔ مشین چلنا بند ہوجائے تو پروڈیکشن پر برا اثڑ پڑے گا ۔ اس لئے سارے دفتری ٹائم میں تو مشین یہاں چلتی رہتی ہے اوراس کے بعد مجھے ہر روز ساری مشین کو کھول کرصاف کرنا پڑتا ہے ، اس کی آئیلنگ گریزنگ کرنا پڑتی ہے ،اس کے ایک ایک ڈھیلے پرزے کو کسنا پڑتا ہے ……..اور یہ سارا کام بھی مجھے اکیلے ہی انجام دینا ہوتا ہے ۔پچھلے ساڑھے سات برس سے،جب سے شیا م بابو کی شادی ہوئی ہے ،اس کی بیوی وہیں اپنے ماں باپ کے گاؤں میںان ہی کے ساتھ رہ رہی ہے ۔ شادی کے موقع پر وہ اس کی ڈولی اٹھواکر گاؤں سے باہر تولے آیاے ، لیکن پھر جب سمجھ میں نہ آیا کہ اسے کہاں لے جائے تو ڈولی کا مونسہ واپس گاؤں کی طرف مڑوالیا ……..یہ تم نے بہت اچھا کیا بیٹا ……..اس کی ساس نے کہا تھا ……..کہ ایک بارہماری بیٹی کو گاؤں سے باہر لے گئے ۔ کم سے کم رسم تو پوری ہوگئی ۔ اب چاہو تو بے شک ساری عمر یہیں رہے ۔ یہ گھر بھی تو اسی کا ہے ……..لیکن اس کا کوئی اپنا گھر کیوں نہیں جہاں اسے وہ لے آتا تو اس میں بوئی ہوئی انسانیت کی آبیاری ہوتی رہتی ۔شروع شروع میں تو شیام با بو کی بے چینی کا یہ عالم تھا کہ سوتے میں بھی بیوی کے گاؤں کا رخ کئے ہوتا ……..تم گھبراؤ نہیں سنیہ دتی ۔ میں دن رات کرائے پر کوئی اچھا سا کمرہ لینے کی مہم میں جٹا ہوا ہوں ۔ جیسے ہی کوئی مل گیا ، تمہیںاسی دم یہاں لے آؤں گا ……..مگر برا ہو اس بڑے شہر کا ،جو اپنے چھوٹے دل میں ایک کے اوپر ایک کئی کمرے بنائے ہوئے ہے مگر اتنی اونچائی پررہائش کے کرائے کے خیال سے اسے یہاں رہنے کی بجائے یہاں سے لڑھک کر خود کشی جءسوجھتی ہے ۔ پورے ساڑھے سات برس اسی طرح گزر گئے ہیں ۔ وہ میاں اور بیوی ساڑھے پانچ سو میں کے فاصلے پر وہاں ۔شیام بابو میں کم تین سو پینسٹھ دن تک اپنی بیس دن کی ارنڈ لیو کا انتظار کرتا رہتا اور وقت آنے پر گاڑیوں ، بسوں اور تانگوں کو بدل بدل کر وہ گویا اپنے دو پیروں سے سرپٹ بھاگتے ہوئے وہاں جا پہنچتا اوراس کی خواہش اتنی شدید ہوتی کہ اپنی تیار بیٹھ ہوئی بیوی پروہ بے اختیار کسی درندے کی طرح ٹوٹ پڑتا ۔ ایک ……..دو …………تین سال تک تو وہ ہرسال گیا ، لیکن چوتھے سال عین چھٹی کے دنوں میں وہ بیمار ہوگیا ، پھر پانچویں سال جوجانا ہوا تو اس کے بعد ڈھائی سال میں ایک بار بھی نہیں جاسکا ۔ جو پیسے وہاں جانے میں ضائع ہوں گے ۔ان میں سے آدھے بھی منی آرڈر کرادوں گا تو بیسیوں کام نکال لے گی ……..ہاں ، اس کا ایک دو سالہ لڑکا بھی ہے جس کے بارے میں اس کی بیوی نے اسے لکھاتھا کہ وہ اسے اپنی پانچویں سال کی چھٹی پر اس کی کوکھ میں ڈال آیا تھا ؒ۔ لیکن شیام بابو اپنا حساب کتاب کرکے اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اس کا بیٹا اس کا بیٹا نہیں ۔ شاید اسی وجہ سے ڈھائی سال کے اس عرصے میں وہ ایک بار بھی اس کے پاس نہیں گیا تھا ۔ لیکناس سلسلے میں اس نے بیوی کو کبھی کچھ نہیں لکھا ہے ……..جوہے سو ٹھیک ہے ……..وہ بھی کیا کرے ؟ اور میں بھی کیا کروں؟……..کبھی اچھے دن آگئے تو سب اپنے آپ ٹھیک ہوجائے گا۔
اسے اور اس کے ……..ہمارے بچے کو ……..اس کا ہوا تو ہم دونوں کا ہی ہوا ……..یہیں اپنے پاس لے آؤں گا ……..اور پھر ہم چین سے رہیں گے ، بڑے چین سے رہیں گے ۔اس کے دفتر کا کوئی ساتھی اس کا کندھا جھٹک رہا ہے ۔ مشین میں شاید کوئی نقص پیدا ہوگیا ہے اور وہ رکی پڑی ہے ……..شیام بابو!آں …………ں!……..شیام بابو نے ہڑبڑا کر اپنی آنکھیں کھول لی ہیں ۔طبیعت خراب ہے تو گھرچلے جاؤ۔کون سا گھر؟ نہیں ٹھیک ہوں ، یوں ہی ذرا اونگھنے لگا تھا ……..ٹک ٹک ……..ٹک ……..ٹک !میشن پھر چلنے لگی ہے ۔تمہارے لئے پانی منگواؤں ؟ارے بھائی ،کہہ دیا نا ، ٹھیک ہوں ۔اس کے ساتھی نے تعجب سے اس کے کام پر جھکے ہوئے سر کی طرف دیکھا ہے اور اپنے کام میں الجھ گیا ہے ۔شیام بابو کو اپنا جی اچانک بھر ابھراسا لگنے لگا ہے ۔ عام طور پر تو یہی ہوتا ہے کہ اسے اپنی خوشی کی خبر ہوتی ہے نہ اداسی کی ۔ اسے بس جو بھی ہوتا ہے بے خبری میں ہی ہوتا ہے ۔ اے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کررہا ہے اور یوں ہی سب کچھ بخوبی ہوتا چلا جاتا ہے ۔ وہ بے خبر سا اپنے آپ دفتر میں آپہنچتا ہے اور اسی حالت میں سارے دن قلم چلا چلا کر اپنے ٹھکانے پر لوٹ آتا ہے اورپھر دوسرے دن صبح کو عین ویسے کا ویسا ڈیوٹی پرآبیٹھتا ہے ۔ یعنی معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کون ہے ، کیوں ہے ، کیا ہے ؟ ………… کوئی ہو تو معلوم بھی ہو ……..اس دن تو حد ہوگئی : وہ یہاں اپنی سیٹ پر بیٹھا ہے اور اس کا باس یہاں اس کے قریب ہی کھڑا پوچھ رہا ہے ، بھئی ، شیام بابو آج کہاں ہے ؟شیام بابو ……..شیام بابو!…….. شیام بابو یقینی طورپر اس کی آواز سن رہا ہے ، مگر سن رہا ہے تو فوراً ، جواب کیوںنہیں ہیں دیتا ……..۔ س سر!……..ایسے بھولے بھٹکے چہرے شاید ہماری آنکھوں میں ٹھہرنے کی بجائے روحوں میں لڑھک جاتے ہیں ۔ ان سے مخاطب ہونا ہو تو اپنے ہی اندر ہولو ، پنی ہی تھوڑی سے جان سے انہیں زندہ کرلو، ورنہ یہ تو جیسے ہیں ویسے ہی ہیں ۔گوشت کو رگوں میں خون دوڑنے کی اطلاع ملتی رہے تو یہ زندہ رہتا ہے ، ورنہ بے خبری میں مٹی ہوجاتا ہے ۔ جب شیام بابو کی اپنی زندگی بے پیغام ہے تو اسے کیسے محسوس ہوکہ ٹیلی گراموں کے ٹیکسٹ برقی کوڈ کی اوٹ میں کھلکھلا کر ہنس رہے ہیں ، یادھاڑیں مار مارکررو رہے ہیں ف، یا تجتس سے اکڑے پڑے ہیں ۔ سوکھی مٹی کے دل پر آپ کچھ بھی لکھ دیجئے ، اے اس سے کیا ؟ شیام بابو کو اسے سے کیا ، کہ کوئی کسے کیا پیغام بھیج رہا ہے ؟ اس کی قسمت میں تو کسی کا پیغام نہیں ، محبت کا یانفرت ، خوشی یا غم کا ……..اسے کیا ؟ …………….ٹیلی گراموں کے گرم گرم ٹیکسٹ کا کوڈ اس کے ٹھنڈے قلم سولی سے لٹک کر سپاٹ سی صورت لئے کاغذ پر ڈھیر ہوتا رہتا ہے ……..یہ لو ، الفاظ تو نرے الفاظ ہیں ،بس الفاظ ہیں ، الفاظ کیوں ہنسیں یا روئیں گے ؟ ان کو پڑھ کے ہنسو ، روؤ، یا جو بھی کرو ، تم ہی کرو …………یہ لو !لیکن اس وقت یہ ہے کہ شیام بابو کو اپنا جی یک بارگی بہت بھرا بھرا لگنے لگا ہے ۔ سوچوں کا تالاب شاید بھر بھر کے اس کے دل تک آپہنچا ہے اور وہ انجانے میں تیرنے لگا ہے اور سوکھی مٹی میں جان پڑنے لگی ہے ۔…………سٹاپ میں بدیس سے لوٹ آیا ہوں سٹاپ ……..اور عین اس وقت صاحب کے چپراسی نے اس کی آنکھوں کے نیچے ہیڈ آفس کا ایک لیٹر رکھ دیا ہے ۔ اس نے لیٹر پر نظر ڈالی ہے اور پھر چونک کر خوشی سے کانپتے ہوئے اسے دوبارہ پرھنے لگا ہے ۔ اسے سرکاری طور پر اطلاع دی گئی ہے کہ تمہارے نام دو کمروں کا کوارٹر منظور ہوگیا ہے !کیدار بابو ……..جمیل……..کشن !……..ادھر دیکھو دوستو ۔ دیکھو ، میرا کیا لیٹر آیا ہے ؟کیا کیا ہے؟
میرا کوارٹر منظور ہوگیا ہے !تو کیا ہوا ؟……..بائیں ، کیا کہا …………….کوارٹر منظور ہوگیا ہے ؟!ہاں !بہت اچھا !……..بہت اچھا ! سب کے لئے چائے ہوجائے شیام بابو !ارے چائے ہی کیاع ، کچھ ادھارے دے سکتے ہوتو جو چاہو منگوالو۔ہاں ، تم فکر نہ کرو۔ میں سارا بندوبست کئے دیتا ہوں ……..یہ تو بہت ہی اچھا ہوگیا شیا م بابو!……..رامو……..ادھر آؤ رامو، جاؤ ہوٹل والے کو بلالاؤ ……..جاؤ……..اب بھابی کو کب لارہے ہو شیام بابو؟آج چھٹی کی درخواست دے کرہی جاؤں گا کیدار بابو! ……..شیا م بابو قصور میں اپنے کوارٹر میں بیٹھا کھانا کھا رہا ہے اور اس کے کندھوں پر اس کا لڑکا کھیل رہا ہے ……..کیا نام ہے اس کا ؟……..دیکھو ناع ، دماغ پر زورڈالے بغیر اپنے اکلوتے بچے کا …………اپنا ہی تو ہے …………نام بھی یاد نہیں آتا ۔ کوئی بات نہیں شکر اور دودھ کھلتے ملتے ہی گاڑھے اور میٹھے ہوجاتے ہیں …………اری سن رہی ہو بھلی لوگ ؟اگلی چپاتی کب بھیجوگی ؟ دفتر کے لئے دیر ہورہی ہے ۔لو ، شیام بابو ، ہوٹل والا توآگیا ہے ……..بس ایک ایک چاٹ ، ایک ایک گلاب جامن اور کیا؟ ایک ایک سموسہ ……..چلے گا ناشیا م بابو؟…….. لکھو ہمارا آرڈر بھائی پر نانند!شیا م بابو کو پتہ ہی نہیں چلا ہے کہ دفتر میں باقی سارا وقت کیسے بیت گیا ہے ۔ وہاں سے اٹھنے سے پہلے اسنے سب ساتھیوں سے وعدہ کیا ہے کہ کل سویرے وہ ان سب کو ان کی بھابی کی تصویر دکھائے گا ۔اتنی بھولی ہے کہ ڈرتا ہوں اس شہر میں کیسے رہے گی ۔ڈرومت شیام بابو۔ بھابی کو لانا ہے تو اب شیربیر بن جاؤ ۔دفتر سے نکل کر تیز تیز قدم اٹھائے ہوئے شیام بابو چوراہے پر آگیا ہے اور پان اور سگریٹ لینے کے لئے رک گیا ہے …….. اور پھر تمباکو والے پان کا لعاب حلق سے اتارتے ہوئے نتھنوں سے سگریٹ کا دھواں بکھیرتے ہوئے ہلکی ہلکی سردی میں حدت محسوس کرتے وہ بڑے اطمینان سے اپنے رہائش کے اڈے کی طرف ہولیا ……..ایک چھوٹی سی کھولی جس میں مشکل سے ایک چارپائی آتی ہے ۔ ابھی پچھلے ہی مہینے خان سیٹھ نے اسے دھمکی دی تھی بھاڑے کے دس روپے بڑھاؤ ، نہیں تو چلتے بنو ……..ہاں !چوہے کے اس بل کا کرایہ پہلے ہی پچاس روپے وصول کرتے ہو خان سیٹھ ۔ اپنے خدا سے ڈرو !لیکن خان سیٹھ نے اپنے خدا کو ڈرانے کے لئے ایک بھیانک قہقہہ لگایا ……..بلی شریف نہ ہوتی بابو ، تو بولو ، کیا ہوجاتا ؟ …….. ساٹھ روپے ، نہیں توخالی کرو …………ہاں !اسی مہینے خالی کردوں گا اور سیٹھ سے کہوں گا ، لو سنبھالو اپنی کھولی خان سیٹھ ۔ تمہاری قبر کی پورے سائز کی ہے …….. لو!……..نہیں جھگڑے وگرے کا کیا فائدہ ؟ چپکے سے اس کی کھولی اس کے حوالے کرکے اپنی راہ لوں گا ۔بس سٹاپ آگیا ہے اور بس بھی کھڑی ہے ، لیکن بہت بھری ہوئی ہے ۔ شیام بابو نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ پیدل ہی جائے گا ۔ یہاں سے تھوڑ ہی فاصلہ تو ہے …….. اس کا سگریٹ جل جل کر انگلیوں تک آپہنچا ہے ، لیکن ابھی اس کی خواہش نہیں مٹی ہے ۔اس نے ہاتھ کا ٹکڑا پھینک کر ایک اورسگریٹ سلگالیا ہے …………ساوتری کو میری سگریٹ پینا بالکل پسند نہیں …….. پیسے بھی جلاتے ہو اور پھیپھڑے بھی ۔ اس سے تو اچھا ہے میرا ہی ایک سرا جلا کر دوسرے کو ہونٹوں میں دبالو اور دھواں چھوڑتے جاؤ ! میرا مزہ کیا سگریٹ سے کم ہے ؟ ……..اری بھلی لوگ ، ایک تمہارا ہی مزہ تو ہے ۔ سگریٹ و گریٹ کی لت کو گولی مارو ……..آؤ!……..اس نے خیال ہی خیال میںبیوی کو سینے سے لگالیا ہے۔
اور مخالف سمت سے آتی ہوئی ایک عورت سے ٹکرا گیا ہے ، گویااس کی ساوتری نے اس سے الگ ہونے کے لئے اپنے آپ کو جھٹکا ہو……..ارے ! اس نے اندھے پن میں اپنا ہاتھ اس عورت کی طرف پھیلا دیا ہے ……..ایڈی اٹ ! وہ عورت غصے سے پھنکارتی ہوئی آگے بڑھ گئی ہے …….. اور شیام بابو شرمنڈہ ہوجانے کے باوجود خوش خوش ہے اور عورت کی پیٹھ کی طرف مونہہ لٹکا کر اس نے بہ آواز بلند کہا ہے ۔ آئی ایم ساری میڈم ۔ لیکن اس عورت کی پھنکار پھر اس کے بند کانوں کے باہرٹکرائی ہے ۔ ایڈ اٹ !شیام بابو اپنے ذہن کو جھاڑ رہا ہے اور اڑتی ہوئی گرد میں اس کی بیوی زور زو ر سے ہنس رہی ہے …………اور ٹکراؤ پرائی عورتوں سے ! ایک میں ہوں جو بلا روک ٹوک ساری دراز دستیاں سہہ لیتی ہوں ۔ میں اور کی طرف ذرا نظر اٹھا کر دیکھوں ……..کسی اور کی طرف ذرا نظر اٹھا کر تو دیکھوں…………کسی اور کی طرف دیکھنے کی مجھے ضرورت ہی کیا ہئے ؟ میرے لئے تو بس جو بھی ہو تم ہو ……..شیام بابو نے اپنے آپ کو ڈانٹ کر کہا ہے ……..نیں ، تم نے اپنی بیوی کے ماتھے پرخواہ مخواہ کلنک کا ٹیکہ لگارکھا ہے ۔ تمہارا بچہ تمہارا ہی ہے…….. اور اگر مان بھی لیں کہ وہ تمہارا نہیں ، تو اس میں ساوتری کا کیا دوش ؟اس کا ساراسال تمہاری ارنڈلیو کے دس بیس روز کاتو نہیں ……..چل سب ٹھیک ہے ، میرا بچہ میرا ہی ہے ……..ہمارے نیٹو کی آنکھیں کی طرح چھوٹی چھوٹی ہیں ۔ ماتھ مجھ پرگیا ہے ، مگر ناک …………میں بھی کیسا باپ ہوں کہ دو سال اوپر کاہولیا ہے مگر میں نے ابھی تک اسے ایک بار بھی نہیں دیکھا ۔ پچھلے سال مجھے ایک چکر کاٹ آنا چاہیے تھا ……..آج چھٹی کی درخواست دینا بھی بھول گیا ہوں ۔ اب کل پہلا کام یہی کروں گا اور اس ہفتے کے آخر میں یہاں سے نکل جاؤں گا …………ساوتری کو چٹھی بھی نہ لکھوں گا اوراچانک اس کے سامنے جاکھڑاہوں گا …………ساوتری !…………اوروہ آنکھیں مل جل کر میری طرف دیکھتی رہ جائے گی …………ساوتری …………وہ رودے گی …………یہ مجھے کس کی آواز سنائی دی ہے …………ہائے اب تو اٹھتے بیٹھتے تمہاری ہی صورت دکھائی دیتی ہے نیٹو کے بابو ۔ اب تو آجاؤ !…………میں آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لوں گا اور وہ میرے بازوؤں میں بے ہوش ہوجائے گی ۔ ساوتری ! ………… ساتری !…………اپنی کھولی کے سامنے پہنچ کر اس نے بے اختیار اپنی بیوی کا نام پکارا ہے ۔ لیکن وہاں اس کے تارگھرکے رامونے آگے بڑھ کر اسے جواب دیا ہے ……..بابوجی ؟ارے رامو، تم !کیسے آئے ؟…………شیام بابو اپنے حواس درست کررہا ہے ۔باجوجی !……..رامو کی آواز بھاری ہے اوروہ بولتے ہوئے تامل برت رہا ہے ۔اتنے اکھڑے اکھڑے کیوں ہو؟……..بولونا!آپ کا تار لایا ہوں ۔میرا تار ؟ہاں بابوجی ، یہ تار آپ کے ہاتھ سے ہی لکھا ہوا ہے ، مگر آپ کا دھیان ہی نہیں کیا کہ آپ کا ہے ۔تار کا لفافہ ایک طرف سے کھلا ہے لیکن شیام بابو اسے دوسری طرف سے چاک کر رہا ہے ۔ڈسپیچ والے کشن سنگھ کو بھی خیال نہ آیا شیام بابو ، کہ یہ تار آپ کا ہے ۔ شیام بابو نے تار کا فارم کھول کر دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کے سامنے فٹ کرلیا ہے ۔مجھے بھی آدھا راستہ طے کرکے اچانک خیال آیا بابوجی ، ارے ، یہ تار تو اپنے بابوجی کا ہے …………میں اسے پڑھ چکا ہوں : بہت افسوس ہے کہ …………….ساوتری نے خودکشی کرلی ہے سٹاپ …………۔

تبصرہ کریں

چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

مرے خدایا! میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں

یہ میرا چہرہ، یہ میری آنکھیں

بجھے ہوئے چراغ جیسے

جو پھر سے جلنے کے منتظِر ہوں

وہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

وہ مہرباں سایہ دار زلفیں

جنھوں نے پیماں کئیے تھے مجھ سے

رفاقتوں کے، محبتوں کے

کہا تھا مجھ سے کہ اے مسافر رہِ وفا کے

جہاں بھی جائیگا ہم بھی آئیں گے ساتھ تیرے

بنیں گے راتوں میں چاند ہم تو دن میں سائے بکھیر دیں گے

وہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

وہ مہرباں سایہ دار زلفیں

وہ اپنے پیماں رفاقتوں کے محبتوں کے

شکست کرکے

نہ جانے اب کس کی رہ گزر کا منارہءِ روشنی ہوئے ہیں

مگر مسافر کو کیا خبر ہے

وہ چاند چہرا تو بجھ گیا ہے

ستارہ آنکھیں تو سو گئی ہیں

وہ زلفیں بے سایہ ہوگئی ہیں

وہ سوشنی اور وہ سائے مری عطا تھے

سو مری راہوں میں آج بھی ہیں

کہ میں مسافر رہِ وفا ہوں

وہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

وہ مہرباں سایہ دار زلفیں

ہزاروں چہروں ہزاروں آنکھوں

ہزاروں الفوں کا اک سیلابِ تند لے کر

مرے تعاقب میں آرہے ہیں

ہر ایک چہرہ ہے چاند چہرہ

ہیں ساری آنکھیں ستارہ آنکھیں

تمام ہیں

مہرباں سایہ دار زلفیں

میں کس کو چاہوں ، کس کو چوموں

میں کس کے سائے میں بیٹھ جاؤں

بچُوں کہ طوفاں میں ڈوب جاؤں

کہ میرا چہرہ، نہ مری آنکھیں

مرے خدایا! میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں

۔۔۔ عبید اللہ علیم ۔۔۔ ١٩٦٦ء ۔۔۔

تبصرہ کریں

اتنی مدت بعد ملے ہو

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو؟

اتنے خائف کیوں رہتے ہو؟
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو

تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟

کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو؟

میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو!

کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو؟

پیچھے مڑ کو کیوں دیکھا تھا
پتھر بن کر کیا تکتے ہو؟

جاؤ جیت کا جشن مناؤ
میں جھوٹا ہوں ، تم سچے ہو!

اپنے شہر کے سب لوگوں سے
میری خاطر کیوں الجھے ہو؟

کہنے کو رہتے ہو دل میں
پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو

رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا
رات بہت ہی یاد آئے ہو!

ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
اپنی کہو اب تم کیسے ہو؟

محسن تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو، پھر بھی اچھے ہو

۔۔۔ محسن نقوی ۔۔۔

Comments (4)

اس طرح تو ٹوٹ کے بادل کبھی برسا نہ تھا

وقت نے کیسے چٹانوں میں دراڑیں ڈال دیں
رو دیا وہ بھی کہ جو پہلے کبھی رویا نہ تھا

پیار کے اک بول نے آنکھوں میں ساون بھر دئیے
اس طرح تو ٹوٹ کے بادل کبھی برسا نہ تھا

جانے کیوں دل سے مرے اسکی کسک جاتی نہیں
بات گو چھوٹی سی تھی اور وار بھی گہرا نہ تھا

موسمِ گل میں تھا جس ٹہنی پہ پھولوں کا حصار
جب خزاں آئی تو اس پہ ایک بھی پتا نہ تھا

۔۔۔ امتہ القدوس بیگم ۔۔۔

Comments (2)

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں
میرے نغمات کو اندازِ دعا یاد نہیں

ہم نے جن کے لئیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
ہم سے کہتے ہیں وہی، عہدِ وفا یاد نہیں

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے
میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

کیسے بھر آئیں سرِ شام کسی کی آنکھیں
کیسے تھرائی چراغوں کی ضیاء یاد نہیں

صرف دھندلاتے ستارے کی چمک دیکھی ہے
کب ہوا، کون ہوا، مجھ سے جدا، یاد نہیں

آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

۔۔۔ ساغر صدیقی ۔۔۔

Comments (1)

کوئي زنجير ہو۔۔۔۔

کوئي زنجير
آہن کي چاندي کي روايت کي
محبت توڑ سکتي ہے
يہ ايسي ڈھال ہے جس پر
زمانے کي کسي تلوار کا لوہا نہيں چلتا
يہ ايسا شہر ہے جس
ميں کسي آمر کسي سلطان کا سکہ نہيں چلتا
اگر چشم تماشا ميں ذرا سي بھي ملاوٹ ہو
يہ آئينہ نہيں چلتا
يہ ايسي آگ ہے جس ميں
بدن شعلون ميں جلتے ہيں تو روہيں مسکراتي ہيں
يہ وہ سيلاب ہے جس کو
دلوں کي بستياں آواز دے کر خود بلاتي ہيں
يہ جب چاہے کسي بھي خواب کو تعبير مل جائے
جو منظر بجھ چکے ہيں انکو بھي تنورير مل جائے
دعا جو بے ٹھکانہ تھي اسے تاثير مل جائے
کسي رستے ميں رستہ پوچھتي تقدير مل جائے
محبت روک سکتي ہے سمے کے تيز دھارے کو
کسي جلتے شرارے کو، فنا کے استعارے کو
محبت روک سکتي ہے کسي گرتے ستارے کو
يہ چکنا چور آئينے کے ريزے جوڑ سکتي ہے
جدھر چاھے يہ باگيں موسموں کي موڑسکتي ہے
کوئي زنجير ہو اس کو محبت توڑ سکتي ہے

امجد اسلام امجد

تبصرہ کریں

Older Posts »