دیوسائی کی بستیاں

بڑے پانی کے کناروں پر زرد گھاس، ڈھلتی جاتی دھوپ میں اپنی چمک کھو رہی تھی ۔۔۔ اور ہمارے جوگرز کے اوپر گھاس کے جو تنکے آتے تھے، زردی میں بجھے ہوئے تیر تھے، اور ہم جو موج میں تھے، ایک پَل میں ان بستیوں کی اداسی میں چلے گئے جو کبھی دیوسائی میں تھیں ۔۔۔ اگرچہ یہ قرین از قیاس نہیں لگتا تھا ۔۔۔ دیوسائی کی بلندی تو ہمیشہ سے اتنی ہی تھی، زیادہ تو نہیں ہوئی تھی، اور اتنی بلندی پر آبادی ممکن ہی نہ تھی ۔۔۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ کسی مجبوری کی وجہ سے یہاں کچھ عرصہ ٹھہرے ہوں اور پھر چلے گئے ہوں ۔۔۔ یہاں مہر گڑھ یا ہڑپہ کی طرح کوئی آثار نہ تھے ۔۔۔ صرف روایتیں تھیں ۔۔۔ حکایتیں تھیں کہ یہاں بستیاں تھیں جو اجڑ گئیں ۔۔۔ اور ان کا ماتم کرنے والا کوئی نہ تھا ۔۔۔ کیونکہ اتنی بلندی پر ماتم کرنے والے کا سانس پھول جاتا ہے اور وہ ماتم ترک کرکے نیچے سکردو میں اتر جاتا ہے ۔۔۔

۔۔۔ مستنصر حسین تاڑر کی “دیوسائی“ سے اک اقتباس ۔۔۔

تصویر کے لئیے ہارٹکنز کا شکریہ

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: