اس طرح تو ٹوٹ کے بادل کبھی برسا نہ تھا

وقت نے کیسے چٹانوں میں دراڑیں ڈال دیں
رو دیا وہ بھی کہ جو پہلے کبھی رویا نہ تھا

پیار کے اک بول نے آنکھوں میں ساون بھر دئیے
اس طرح تو ٹوٹ کے بادل کبھی برسا نہ تھا

جانے کیوں دل سے مرے اسکی کسک جاتی نہیں
بات گو چھوٹی سی تھی اور وار بھی گہرا نہ تھا

موسمِ گل میں تھا جس ٹہنی پہ پھولوں کا حصار
جب خزاں آئی تو اس پہ ایک بھی پتا نہ تھا

۔۔۔ امتہ القدوس بیگم ۔۔۔

Advertisements

2 تبصرے »

  1. hmmm… nice one…

  2. oye hoee!
    i wonder duniya mai itna dukh kiyaon hai!
    so they say,
    poetry is the spontaneous overflow of powerful emotions but howcome we write so little when we are the happiest one in the world?

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: