اتنی مدت بعد ملے ہو

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو؟

اتنے خائف کیوں رہتے ہو؟
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو

تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟

کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو؟

میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو!

کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو؟

پیچھے مڑ کو کیوں دیکھا تھا
پتھر بن کر کیا تکتے ہو؟

جاؤ جیت کا جشن مناؤ
میں جھوٹا ہوں ، تم سچے ہو!

اپنے شہر کے سب لوگوں سے
میری خاطر کیوں الجھے ہو؟

کہنے کو رہتے ہو دل میں
پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو

رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا
رات بہت ہی یاد آئے ہو!

ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
اپنی کہو اب تم کیسے ہو؟

محسن تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو، پھر بھی اچھے ہو

۔۔۔ محسن نقوی ۔۔۔

Advertisements

4 تبصرے »

  1. محسن نقوی نے چھوٹی چھوٹی باتیں اس خوبصورت انداز میں بیان کی ہیں کہ دل کو چھونے لگتی ہیں۔

  2. har bat per uljhay uljhay rehtay ho
    itnay sawal kiyon kertay ho??

  3. S.G. said

    itnay arsay baad yun sab blogs pe ja k lag ra hay someone old inside me is getting back to life…

    bohat piyari nazm hay ye…

  4. Asma said

    @MP: True

    @Unaiza: I hope you are not asking me :”)

    @SG: Good to have you back … back to life 🙂

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: