چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

مرے خدایا! میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں

یہ میرا چہرہ، یہ میری آنکھیں

بجھے ہوئے چراغ جیسے

جو پھر سے جلنے کے منتظِر ہوں

وہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

وہ مہرباں سایہ دار زلفیں

جنھوں نے پیماں کئیے تھے مجھ سے

رفاقتوں کے، محبتوں کے

کہا تھا مجھ سے کہ اے مسافر رہِ وفا کے

جہاں بھی جائیگا ہم بھی آئیں گے ساتھ تیرے

بنیں گے راتوں میں چاند ہم تو دن میں سائے بکھیر دیں گے

وہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

وہ مہرباں سایہ دار زلفیں

وہ اپنے پیماں رفاقتوں کے محبتوں کے

شکست کرکے

نہ جانے اب کس کی رہ گزر کا منارہءِ روشنی ہوئے ہیں

مگر مسافر کو کیا خبر ہے

وہ چاند چہرا تو بجھ گیا ہے

ستارہ آنکھیں تو سو گئی ہیں

وہ زلفیں بے سایہ ہوگئی ہیں

وہ سوشنی اور وہ سائے مری عطا تھے

سو مری راہوں میں آج بھی ہیں

کہ میں مسافر رہِ وفا ہوں

وہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

وہ مہرباں سایہ دار زلفیں

ہزاروں چہروں ہزاروں آنکھوں

ہزاروں الفوں کا اک سیلابِ تند لے کر

مرے تعاقب میں آرہے ہیں

ہر ایک چہرہ ہے چاند چہرہ

ہیں ساری آنکھیں ستارہ آنکھیں

تمام ہیں

مہرباں سایہ دار زلفیں

میں کس کو چاہوں ، کس کو چوموں

میں کس کے سائے میں بیٹھ جاؤں

بچُوں کہ طوفاں میں ڈوب جاؤں

کہ میرا چہرہ، نہ مری آنکھیں

مرے خدایا! میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں

۔۔۔ عبید اللہ علیم ۔۔۔ ١٩٦٦ء ۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: