Archive for اکتوبر, 2006

میری تیری نگاہ میں

میری تیری نگاہ میں

جو لاکھ انتظار ہیں

جو میرے تیرے تن بدن میں

لاکھ دل فگار ہیں

جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے

سب قلم نزار ہیں

جو میرے تیرے شہر کی

ہر اک گلی میں

میرے تیرے نقشِ پا کے بے نشاں مزار ہیں

جو میری تیری رات کے

ستارے زخم زخم ہیں

جو میری تیری صبح کے

گلاب چاک چاک ہیں

یہ زخم سارے بے دوا

یہ چاک سارے بے رفو

کسی پہ راکھ چاند کی

کسی پہ اوس کا لہو

یہ ہے بھی یا نہیں ، بتا

یہ ہے کہ محض جال ہے

میرے تمھارے عنکبوتِ وہم کا بُنا ہوا

جو ہے تو اسکا کیا کریں

نہیں ہے تو بھی کیا کریں

بتا، بتا

بتا، بتا

۔۔۔ فیض احمد فیض ۔۔۔

Advertisements

Comments (3)

قومی ترانہ

پاک سرزمین شاد باد
كشور حسين شاد باد
تو نشان عزم عالی شان
ارض پاکستان
مرکز یقین شاد باد

پاک سرزمین کا نظام
قوت اخوت عوام
قوم ، ملک ، سلطنت
پائندہ تابندہ باد
شاد باد منزل مراد

پرچم ستارہ و ہلال
رہبر ترقی و کمال
ترجمان ماضی شان حال
! جان استقبال
سایۂ خدائے ذوالجلال

Comments (3)

ابھی دریا میں پانی ہے

ابھی دریا میں پانی ہے

فضائے بے یقینی کیوں اتر آئی ہے سانسوں میں

ابھی تو اپنی مٹی میں نمو کا وصف زندہ ہے

ابھی جھرنے سلامت ہیں

ابھی دریا میں پانی ہے

ابھی جھیلیں نہیں سوکھیں

ابھی جنگل نہیں اجڑے

فضاؤں میں ابھی تک بادلوں کا آنا جانا ہے

ہواؤں میں نمی کا سلسلہ

تادیر ہے قائم

ابھی تک فصلِ گل کا

دامن شاداب ہے باقی

ابھی تک قطرہِ شبنم کی آب وتاب ہے باقی

ہمارے نام کے دانے

اگا کرتے ہیں کھیتوں میں

ہماری سرزمیں کی

پھول سے نسبت ابھی تک ہے

ابھی تک تتلیاں پرواز کرتی ہیں گلستاں میں

حرارت زندگی کی

برف نے ابھی تک نہیں چھینی

سلگتے مہر نے

برسات کا موسم بنہیں چھینا

ابھی صحراؤں کے عفریت سے

محفوظ ہیں دریا

ابھی نخلِ تمنا کی

ہری شاخیں سلامت ہیں

ابھی قدموں کے نیچے

ماں صفت

مٹی کی حدت

ابھی جھرنے سلامت ہیں

ابھی دریا میں پانی ہے

۔۔۔ رفیع الدین راز ۔۔۔

Comments (2)

مارا جاؤں گا

کہاں کسی کی قیامت میں مارا جاؤں گا
میں کم شناس مروت ميں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں
پر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا
مجھے بتایا ہوا ہے میری چھٹی حس نے
میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا
میرا یہ خون میرے دشمنوں کے سر ہوگا
میں دوستوں کی حراست ميں مارا جاؤں گا
یہاں کمان اٹھانا میری ضرورت ہے
وگرنہ میں بھی شرافت میں مارا جاؤں گا
میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا
فراغ میرے لۓ موت کی علامت ہے
میں اپنی پہلی فراغت میں مارا جاؤں گا
نہیں مروں گا کسی جنگ میں یہ سوچ لیا
میں اب کی بار محبت میں مارا جاؤں گا
رانا سعید دوشی، واہ کینٹ

Comments (3)