ابھی دریا میں پانی ہے

ابھی دریا میں پانی ہے

فضائے بے یقینی کیوں اتر آئی ہے سانسوں میں

ابھی تو اپنی مٹی میں نمو کا وصف زندہ ہے

ابھی جھرنے سلامت ہیں

ابھی دریا میں پانی ہے

ابھی جھیلیں نہیں سوکھیں

ابھی جنگل نہیں اجڑے

فضاؤں میں ابھی تک بادلوں کا آنا جانا ہے

ہواؤں میں نمی کا سلسلہ

تادیر ہے قائم

ابھی تک فصلِ گل کا

دامن شاداب ہے باقی

ابھی تک قطرہِ شبنم کی آب وتاب ہے باقی

ہمارے نام کے دانے

اگا کرتے ہیں کھیتوں میں

ہماری سرزمیں کی

پھول سے نسبت ابھی تک ہے

ابھی تک تتلیاں پرواز کرتی ہیں گلستاں میں

حرارت زندگی کی

برف نے ابھی تک نہیں چھینی

سلگتے مہر نے

برسات کا موسم بنہیں چھینا

ابھی صحراؤں کے عفریت سے

محفوظ ہیں دریا

ابھی نخلِ تمنا کی

ہری شاخیں سلامت ہیں

ابھی قدموں کے نیچے

ماں صفت

مٹی کی حدت

ابھی جھرنے سلامت ہیں

ابھی دریا میں پانی ہے

۔۔۔ رفیع الدین راز ۔۔۔

Advertisements

2 تبصرے »

  1. essjee said

    magar bohat kuch badal gea…
    dharti se nisbat wohi ..magar yadain talkh…

    but it is very nice indeed….aj dil udas hay..bohat… pata ni aj un k liay kia yadain laii hogi jo slamat bach gaye thay….

    ye jheelain..jharnay..ye sb unko kesay lagtay hongay? ab?

  2. asma said

    …….

    This piece was so touching that I read it again and again till posted it here

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: