Archive for نومبر, 2006

ناممکن

وہ کہہ رہی تھی کہ سب کچھ ہے ساعتِ موجود
مناؤ شوق سے جو بھی خوشی میسر ہو
وہ کہہ رہی تھی کہ ماضی کا غم بھلا ڈالو
نہ لب پہ آہ نہ آنکھوں میں ‌اشک ہو
وہ کہہ رہی تھی کہ کرو تم نہ فکرِ مستقبل
فلک جو رنگ دکھائے گا دیکھا جائے گا
وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔ مگر میں عمل نہ کر پایا
کہ میرا خاطرِ حساس میرے بس میں نہیں
مجھے ہے ربطِ غمِ دوش و فکرِ فردا سے
میں اپنا گزرا زمانہ بھلا نہیں سکتا
!!!میں فکرِ فردا سے دامن چھڑا نہیں سکتا

۔۔۔ ظہور احمد فاتح ۔۔۔

عکس کے دشتِ تنہائی سے

Comments (2)

فرض کرو

فرض کرو ہم تارے ہوتے

اک دوجے کو دور دور سے دیکھ دیکھ کر جلتے بجھتے

اور پھر اک دن

شاخِ فلک سے گرتے اور تاریک خلاؤں میں کھو جاتے

دریا کے دو دھارے ہوتے

اپنی اپنی موج میں بہتے

اور سمندر تک اس اندھی، وحشی اور منہ زور مسافت

کے جادو میں تنہا رہتے

فرض کرو ہم بھور سمے کے پنچھی ہوتے

اڑتے اڑتے اک دوجے کو چھوتے اور پھر

کھلے گگن کی گہری اور بے وفا آنکھوں میں کھو جاتے

,اور باہر کے جھونکے ہوتے

موسم کی اک بے نقش سے خواب میں ملتے

ملتے اور جدا ہو جاتے

خشک زمینوں کے ہاتھوں پر سبز لکیریں کندا کرتے

اور ان دیکھے سپنے بوتے

اپنے اپنے آنسو رو کر چین سے سوتے،

!فرض کرو ہم جو کچھ اب ہیں وہ نہ ہوتے ۔۔۔

۔۔۔ امجد اسلام امجد ۔۔۔

عکس کے دشتِ تنہائی سے

Comments (4)