فرض کرو

فرض کرو ہم تارے ہوتے

اک دوجے کو دور دور سے دیکھ دیکھ کر جلتے بجھتے

اور پھر اک دن

شاخِ فلک سے گرتے اور تاریک خلاؤں میں کھو جاتے

دریا کے دو دھارے ہوتے

اپنی اپنی موج میں بہتے

اور سمندر تک اس اندھی، وحشی اور منہ زور مسافت

کے جادو میں تنہا رہتے

فرض کرو ہم بھور سمے کے پنچھی ہوتے

اڑتے اڑتے اک دوجے کو چھوتے اور پھر

کھلے گگن کی گہری اور بے وفا آنکھوں میں کھو جاتے

,اور باہر کے جھونکے ہوتے

موسم کی اک بے نقش سے خواب میں ملتے

ملتے اور جدا ہو جاتے

خشک زمینوں کے ہاتھوں پر سبز لکیریں کندا کرتے

اور ان دیکھے سپنے بوتے

اپنے اپنے آنسو رو کر چین سے سوتے،

!فرض کرو ہم جو کچھ اب ہیں وہ نہ ہوتے ۔۔۔

۔۔۔ امجد اسلام امجد ۔۔۔

عکس کے دشتِ تنہائی سے

Advertisements

4 تبصرے »

  1. essjee said

    farz karo…hum ahlai wafa hon..faraz karo dewanain hon…

    imajad.I.A has always been my fav…missing my diary..after goiung through it

  2. Aks.. said

    wah ji wah ‘Aks ka dasht-e-tanhai’:) shukar hai gosha-e-tanhai nahi likh diya:P

  3. Asma said

    @essjee: Oh the one you are mentioning is by Ibn e Insha … and i love both AIA and Ibn e insha 🙂

    @Aks: heheheh … bas dekh lo :>

  4. ahsan said

    asslamo alaikum
    i am gul from india. i like ur page. i want to add some good poetry in this blog. i want subscription. my id is ahmadahsan2000@yahoo.com–>

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: