ناممکن

وہ کہہ رہی تھی کہ سب کچھ ہے ساعتِ موجود
مناؤ شوق سے جو بھی خوشی میسر ہو
وہ کہہ رہی تھی کہ ماضی کا غم بھلا ڈالو
نہ لب پہ آہ نہ آنکھوں میں ‌اشک ہو
وہ کہہ رہی تھی کہ کرو تم نہ فکرِ مستقبل
فلک جو رنگ دکھائے گا دیکھا جائے گا
وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔ مگر میں عمل نہ کر پایا
کہ میرا خاطرِ حساس میرے بس میں نہیں
مجھے ہے ربطِ غمِ دوش و فکرِ فردا سے
میں اپنا گزرا زمانہ بھلا نہیں سکتا
!!!میں فکرِ فردا سے دامن چھڑا نہیں سکتا

۔۔۔ ظہور احمد فاتح ۔۔۔

عکس کے دشتِ تنہائی سے

Advertisements

2 تبصرے »

  1. Dr. said

    hmmmmmmmmmmm…made me think!

  2. کافی دنوں سے کچھ لکھا نہیں۔ اب تو اردو ویب نے بھی بیاض کے لنک کے نیچے سرخ لکیر لگا دی ہے۔ آپ نے بلاگ سپاٹ سے ورڈ پریس پر بیاض کو شفٹ کیا مگر اپنے اراکین کو بھول گئیں۔ اب بتائیں ہم کیسے بیاض پر لکھیں۔

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: