Archive for اپریل, 2007

مینڈکوں کا بادشاہ

 

 

ایک بار مینڈکوں نے خدا سے دعا کی کہ ہا پروردگار ہمارے لئے کوئی بادشاہ بھیج۔ باقی سب مخلوقات کے بادشاہ ہیں، ہمارا کوئی بھی نہیں ہے۔

 

خداوند نے انکی سادہ لوحی پر نظر کرتے ہوئے لکڑی کا ایک کندہ جوہڑ میں پھینکا۔ بڑے زوروں کے چھینٹے اڑے، پہلے تو سب ڈر گئے، تھوڑی دیر بعد یہ دیکھ کر کہ وہ لمبا لمبا پڑا ہے، ڈرتے ڈرتے قریب آئے۔ پھر اس پہ چڑھ گئے اور ٹاپنے لگے۔

 

چند دن بعد دوبارہ خداوند کو عرضی دی کی یہ بادشاہ ہمیں پسند نہیں آیا، کوئی اور بھیج جو ہمارے شایانِ شان ہو۔

 

خداوند نے ناراض ہو کر ایک سمندری سانپ بھیج دیا، وہ آتے ہی بہتوں کو چَٹ کر گیا، باقی کونے کھدروں میں جا چھپے۔

 

 

اس حکایت کا نتیجہ قارئین کرام آپ خود ہی نکالیے۔ آخر آپ خود بھی سمجھ دار ہیں۔

 

 

۔۔۔ ابنِ انشاء ۔۔۔

 

 

Comments (1)

دکھے دلوں کو سلام میرا

دکھے ہوئے دل ہیں میرا مذہب مرا عقیدہ
دکھے ہوئے دل
مرا حرم ہیں، مرے کلیسا، مرے شوالے
دکھے ہوئے دل
چراغ میرے، گلاب میرے
دکھے ہوئے دل
کہ روشنی بھی ہیں اور خوشبو بھی زندگی کی،
دکھے ہوئے دل
کہ زندگی کا عظیم سچ ہیں
دکھے ہوئے دل جہاں کہیں ہیں
دکھے ہوئے دل مرا ہی دل ہیں
دکھے دلوں کو سلام میرا

۔۔۔ عبید اللہ علیم – 1967

تبصرہ کریں