دکھے دلوں کو سلام میرا

دکھے ہوئے دل ہیں میرا مذہب مرا عقیدہ
دکھے ہوئے دل
مرا حرم ہیں، مرے کلیسا، مرے شوالے
دکھے ہوئے دل
چراغ میرے، گلاب میرے
دکھے ہوئے دل
کہ روشنی بھی ہیں اور خوشبو بھی زندگی کی،
دکھے ہوئے دل
کہ زندگی کا عظیم سچ ہیں
دکھے ہوئے دل جہاں کہیں ہیں
دکھے ہوئے دل مرا ہی دل ہیں
دکھے دلوں کو سلام میرا

۔۔۔ عبید اللہ علیم – 1967

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: