Archive for مئی, 2007

اے رھبرانِ ملت و قوم

اے رھبرانِ ملت و قوم
اس دیس کے دھارے دیکھتے ییں
سب درد کے مارے پوچھتے ہیں

 

کیا اب بھی تم کو یاد ہیں دن جب لٹ کے لوگ یاں آتے تھے
آزاد فضا کی آس میں سب وہ اپنا سوگ مناتے تھے

 

کیا تم کو صدائیں یاد نہیں اٹھتی تھیں جو ہر زینے پر
وہ بوڑھے بچے مرد جواں قرباں ہوئے پاک نگینے پر

 

پھر تم نے کیا تھا عہدِ وفا اپنے سب پاک شہیدوں سے
بھائیوں کے سینے چاک کئے ، کھیلے تم سب امیدوں سے

میں بلوچ پٹھان تو پنجابی‘ بنگلہ سندھی کو کاٹ دیا
تفریق کو تم نے ھوا دے کر میری مٹی کو یوں بانٹ دیا

کبھی آزادی کے نام پہ سب یہ خواب سہانے بیچے ہیں
کبھی آڑ بھی مذہب کی لے کر لباس جسم سے کھینچے ہیں

 

کیا نالے ان کے یاد نہیں سہاگ جنہوں نے گنوائے تھے
بہنوں کی آہیں بھول گئےسب ویر جنہوں نے لٹائے تھے

 

راشد کی وفائیں بھول گئے بھٹی کا مقصد یاد نہیں
جو کمزورں کی چیخ سنے تم وہ قاسم زیاد نہیں
اپنے شہروں میں آگ لگا تم نے سب کو محصور کیا
خاموشی سے معصوموں کو پھر مرنے پر مجبور کیا

 

سب خوابوں کو سب وعدوں کو تبدیل کیا ہے رونے میں
ہے اپنے لئے پھر بیچ دیا اس دیس کو چاندی سونے میں>

 

ہیں صرف اناؤں کی خاطر کتنے دل پھر ناشاد کئے
اپنے اک آج کی خاطر پھر، کل کتنوں کے برباد کئے
مجرم بھی تم منصف بھی تم ، کیا تم سے کہیں انصاف کرو
بس وطن کی ایک گذار سنو ، اس قوم کو اب تم معاف کرو

 

یہ دنیا خوبصورت ہے“ سے

تبصرہ کریں

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں

 

 

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں

 

میرے نغمات کو اندازِ دعا یاد نہیں

 

 

ہم نے جن کے لئیے راہوں میں بچھایا تھا لہو

 

ہم سے کہتے ہیں وہی، عہدِ وفا یاد نہیں

 

 

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے

 

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

 

 

میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے

 

میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

 

 

کیسے بھر آئیں سرِ شام کسی کی آنکھیں

 

کیسے تھرائی چراغوں کی ضیاء یاد نہیں

 

 

صرف دھندلاتے ستارے کی چمک دیکھی ہے

 

کب ہوا، کون ہوا، مجھ سے جدا، یاد نہیں

 

 

آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں

 

لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

 

 

۔۔۔ ساغر صدیقی ۔۔۔

 

 

Comments (2)

دلِ‌ من مسافرِ من


دلِ‌ من مسافرِ من

ہوا پھر سے حکم صادر

دیں گلی گلی صدائیں

کریں رخ نگر نگر کا

کہ سراغ کوئی پائیں

کسی یار نامہ بر کا

ہر اک اجنبی سے پوچھیں

جو پتا تھا اپنے گھر کا

سر کوئے ناشنایاں

ہمیں دن سے رات کرنا

کبھی اِس سے بات کرنا

کبھی اُس سے بات کرنا

تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے

شبِ غم بری بلا ہے

ہمیں یہ بھی تھا غنیمت

جو کوئی شمار ہوتا

ہمیں کیا برا تھا مرنا

اگر ایک بار ہوتا !!!

۔۔۔ فیض احمد فیض ۔۔۔

Comments (5)

انتظار

 

 

کچھ قسمیں تم بھی بھول گئے

 

کچھ وعدے ہم بھی توڑ گئے

 

یوں ساتھ بھی کب تک چلتے تم

 

اک موڑ پہ آکے چھوڑ گئے

 

سب رستے دھندلے رستے ہیں

 

پر اب بھی ہم اس موڑ پہ کھڑے

 

خالی دل خالی جان لئے

 

ہم آج بھی تم کو تکتے ہیں

 

 

 

۔۔۔ ضیاء عثمانی کی “کھو نہ جانا“ سے ۔۔۔

 

 

Comments (4)