دلِ‌ من مسافرِ من


دلِ‌ من مسافرِ من

ہوا پھر سے حکم صادر

دیں گلی گلی صدائیں

کریں رخ نگر نگر کا

کہ سراغ کوئی پائیں

کسی یار نامہ بر کا

ہر اک اجنبی سے پوچھیں

جو پتا تھا اپنے گھر کا

سر کوئے ناشنایاں

ہمیں دن سے رات کرنا

کبھی اِس سے بات کرنا

کبھی اُس سے بات کرنا

تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے

شبِ غم بری بلا ہے

ہمیں یہ بھی تھا غنیمت

جو کوئی شمار ہوتا

ہمیں کیا برا تھا مرنا

اگر ایک بار ہوتا !!!

۔۔۔ فیض احمد فیض ۔۔۔

Advertisements

5 تبصرے »

  1. Aks.. said

    one of the best pieces. thanx for sharing:)

  2. Asma said

    No problem any time :>

  3. Fairoz said

    بہت اچھی شاعری_ پسند آئی

  4. Fairoz said

    واہ کیا سخن ہے فیض کی _ لکھنے والوں سے اردو رسمِ خط میں پوسٹ کرنے کی گزارش کرتا ہوں

  5. umair toqeer said

    its realy cooi

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: