ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں

 

 

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں

 

میرے نغمات کو اندازِ دعا یاد نہیں

 

 

ہم نے جن کے لئیے راہوں میں بچھایا تھا لہو

 

ہم سے کہتے ہیں وہی، عہدِ وفا یاد نہیں

 

 

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے

 

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

 

 

میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے

 

میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

 

 

کیسے بھر آئیں سرِ شام کسی کی آنکھیں

 

کیسے تھرائی چراغوں کی ضیاء یاد نہیں

 

 

صرف دھندلاتے ستارے کی چمک دیکھی ہے

 

کب ہوا، کون ہوا، مجھ سے جدا، یاد نہیں

 

 

آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں

 

لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

 

 

۔۔۔ ساغر صدیقی ۔۔۔

 

 

Advertisements

2 تبصرے »

  1. zios said

    🙂
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

  2. sakinariaz said

    Great ,

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: