کتے

 

 

یہ گلیوں کے آوارہ بےکار کُتے

 

کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی

 

زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا

 

جہاں بھر کی دھتکار ، ان کی کمائی

 

 

نہ آرام شب کو، نہ راحت سویرے

 

غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے

 

جو بِگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو

 

ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو

 

یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے

 

یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے

 

 

یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے

 

تو انسان سب سرکشی بھول جائے

 

یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں

 

یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں

 

کوئی ان کو احساسِ ذلت دلا دے

 

کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے

 

 

۔۔۔ فیض احمد فیض ۔۔۔

 

 

آج کل کے حالات اور لوگوں پہ کچھ ٹھیک ٹھیک نہیں بیٹھتی یہ نظم ؟؟

 

 

Advertisements

6 تبصرے »

  1. zios said

    :)..yeh Pakistan ki 60 saal ki zindagee mein hamesha sahi lagta hai

  2. cla$$ic jOUrnEy said

    true 😦

  3. Sanix said

    Unfortunately, yah awara bekaar kuttay kabhi sheir nahin bun saktay .. agar inn main itni aqal hoti to yah kam az kam apni gali kay sheir hotay …. And same goes to the Pk people.

    cla$$ic jOUrnEy, that’s actually a very good blog. I’ve been looking for this kinda thingy for ages :-).

  4. a s m a said

    Thanks sanix for appreciating … I guess I had it abandoned for ages now 😐

  5. Rizwan said

    مزید کتنی ذلت و رسوائی چاہیے احساسِ خودی جگانے کے لیے؟

  6. a s m a said

    یہی تو المیہ ہے ۔۔۔

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: