Archive for اکتوبر, 2007

اپنے آپ کو مت پہچانو

حکماء کا اصرار ہے کہ اپنے آپ کو پہچانو لیکن تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ اپنے آپ کو مت پہچانو، ورنہ سخت مایوسی ہوگی۔

 

ایمرسن صاحب فرماتے ہیں انسان جو کچھ سوچتا ہے وہی بنتا ہے۔ کچھ بننا کس قدر آسان ہے، کچھ سوچنا شروع کردو اور بن جاؤ۔

 

اگر نہ بن سکو تو ایمرسن صاحب سے پوچھو۔

 

 

 

۔۔ شفیق الرحمٰن کی کتاب مزید حماقتیں سے ایک اقتباس ۔۔

Comments (4)

ھمتِ التجا نہیں باقی

ھمتِ التجا نہیں باقی

 

ضبط کا حوصلہ نہیں باقی

 

اک تری دید چھن گئ مجھ سے

 

ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی

 

اپنے مشقِ ستم سے ہاتھ نہ کھیںچ

 

میں نہیں یا وفا نہیں باقی

 

ترے چشمِ عالم نواز کی خیر

 

دل میں کوئئ گلہ نہیں باقی

 

ہو چکا ختم عہدِ ہجر و وصال

زندگی میں مزا نہیں باقی

Comments (7)

زندگی کی راہوں میں

زندگی کی راہوں میں

 

بار ہا یہ دیکھا ہے

 

صرف سُن نہیں رکھا

 

خود بھی آزمایا ہے

 

جو بھی پڑھتے آئے ہیں

 

اسکو ٹھیک پایا ہے

 

اسطرح کی باتوں میں

 

منزلوں سے پہلے ہی

 

ساتھ چھوٹ جاتے ہیں

 

لوگ روٹھ جاتے ہیں

 

یہ تمہیں بتا دوں میں

 

چاہتوں کے رشتوں میں

 

پھر گرہ نہیں لگتی

 

لگ بھی جائے تو اُس میں

 

وہ کشش نہیں رہتی

 

ایک پھیکا پھیکا سا رابطہ تو رہتا ہے

 

تازگی نہیں رہتی

 

۔۔۔ روح کے تعلق میں

زندگی نہیں رہتی ۔۔۔

 

بات پھر نہیں بنتی

 

لاکھ بار مل کر بھی

 

دل کبھی نہیں ملتے!

 

ذہن کے جھروکوں میں

 

سوچ کے دریچوں میں

 

تتلیوں کے رنگوں میں

 

پھول پھر نہیں کھلتے!

 

اس لئیے میں کہتا ہوں

 

اس طرح کی باتوں میں

 

احتیاط کرتے ہیں

 

اسطرح کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں!

 

(محسن نظامی)

Comments (3)