کون کيا ہے؟

آغا کليم اختر
صديوں سے آپ کا خاندان پٹيالہ ميں اور بھٹنڈے کے درمياني علاقے ميں رھتا تھا،آپ کے بزرگوں ميں سے کوئي بھي دريائے سندہ کے پار نہيں گيا، پھر بھي آپ نے ديک لخت امير ھوجانے پر اپنے نام کے ساتھ آغا لگايا۔

آپ کاجنرل نالچبے حد وسيع ھے، محلے کا کوئي غير اھم، واقعہ ايسا نہیں جو آپ کو معلوم نہ ھو، شہر کي کوئي اونٹ پٹانگ بات آپ سے پوشيدھ نہیں۔آپ جانتے ہيں کہ دعوتوں ميں چوھدري صاحب سے لوگ متاثر محض اس لئے ھوتے ھيں کيونکہ موصوف بالکل خاموش رھتے تھے، اور يہ کہ خواجہ جو اتنے موٹے ھيں اور ھر وقت بھوک اڑجانے کي شکايت ميں مبتلا رھتے ھيں کہ وھ سوائے ناشتے لنچ اور ڈنر کے کچھ بھي تو نہيں کھاتے، آپ کو يہ بھي پتہ ھے کہ پڑوسيوں کے ہاں شور مچنا بند کيوں ھوگيا ھے اور شيخ صاحب خواھ مخواہ خوش اس لئےرھنے لگے ھيں کہ قنوطي لوگوں سے ادھار لينا شروع کر ديا ھے، کيونکہ سب جانتے ھيں کہ قنوطي کو قرض واپسي کي اميد ھي نہيں ھوتي۔
آپ کو خان صاحب کے استعفے نہ دينے کي اصل وجہ معلوم ھے، وھ يہ کہ خان صاحب کہيں ملازم ھي نہيں تھے اور يہ کہ شاھ صاحب اتنے کنجوس ھيں کہ جب تندرست ھوئے اور ڈاکڑ نےپچيس روپے في وزيٹ کے حساب سے دو سو پچاس کا بل بہيجا تو آپ نے واپس کرديا اور لکھ کہ دس کي جگہ ميں آپ کو پندرھ مرتبہ وزيٹ کروں گا۔کسي نے آپ کي فواہ پر دري اعتراض کيا تو کہنے لگے کہ يہ تو مشرقي ممالک کا محبوب مشغلہ ھے۔١٩٤٦ ميں آپ نے انکشاف کيا کہ شيخ صاحب کا کنبہ خاصا دلچسپ ھے ، شيخ صاحب کا پرانا نام ڈيوڈ فتومل اور ان کے سالے کا نام رابرٹ طوطا رام تھا ، مالي حالات بہتر ھونے پر دونوں علي الترتيب فتح حسين اور تيرتھ سين بن گئے ايک نے مارگيٹ کماري سے شادي کي اور دوسرے نے کسي اور سے۔مالي حالات اور سدھري تو آپ فتح ايس شيخ کہلاتے۔۔۔۔۔۔۔۔وغيرہ وغيرہ اس خبر پر سب خوش ھوئے ليکن شيخ صاحب نے جنہيں اپنے اصلي شيخ ھونے پر بڑا فخر ھے، بے حد خفا ھو کر بيان ديا۔۔۔۔۔کہ اب وھ نہ آغا ديکھيں گے اور نہ پيچھا، فورا ھتک عزت کا دعوي کريں گے۔ليکن اس کا نتيجہ حسب معمول کچھ نہ نکلا، بلکہ کئي برسوں تک پيشيوں پر اس قدر خرچ ھو اکہ تنگ آکر صلحہ کرني پڑي۔

اس سال آپ بڑي سفارشوں کے بعد مقامي پريس کلب کے ممبر بننے ، ليکن چند ھفتوں کے بعد ديگر ممبروں نے اعتراض کيا کہ آپ سہ پہر سے آدھي رات تک کلب ميں رھتے ھيں مگر ايک پائي خرچ نہيں کرتے، غالبا آپ بار پر جانے والوں کو گننے اور رقص ميں شامل ھونے والوں کو جھانکنے کے لئے ممبر بنے تھے۔

Advertisements

2 تبصرے »

  1. فیروز said

    اردو ہے جس کا نام ہمی جانتے ہیں داغ
    سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی

  2. فیروز said

    نئی نسل کو اردو رسمِ خط سے واقف کرائیے
    اردو کا احسان چکائیے

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: