Archive for ابن انشاء

مینڈکوں کا بادشاہ

 

 

ایک بار مینڈکوں نے خدا سے دعا کی کہ ہا پروردگار ہمارے لئے کوئی بادشاہ بھیج۔ باقی سب مخلوقات کے بادشاہ ہیں، ہمارا کوئی بھی نہیں ہے۔

 

خداوند نے انکی سادہ لوحی پر نظر کرتے ہوئے لکڑی کا ایک کندہ جوہڑ میں پھینکا۔ بڑے زوروں کے چھینٹے اڑے، پہلے تو سب ڈر گئے، تھوڑی دیر بعد یہ دیکھ کر کہ وہ لمبا لمبا پڑا ہے، ڈرتے ڈرتے قریب آئے۔ پھر اس پہ چڑھ گئے اور ٹاپنے لگے۔

 

چند دن بعد دوبارہ خداوند کو عرضی دی کی یہ بادشاہ ہمیں پسند نہیں آیا، کوئی اور بھیج جو ہمارے شایانِ شان ہو۔

 

خداوند نے ناراض ہو کر ایک سمندری سانپ بھیج دیا، وہ آتے ہی بہتوں کو چَٹ کر گیا، باقی کونے کھدروں میں جا چھپے۔

 

 

اس حکایت کا نتیجہ قارئین کرام آپ خود ہی نکالیے۔ آخر آپ خود بھی سمجھ دار ہیں۔

 

 

۔۔۔ ابنِ انشاء ۔۔۔

 

 

Advertisements

Comments (1)

ستارے اور ہلال

 

 

ابن انشاء

 

واہ واہ کيا سہانا منظر ہے۔ ستارے يہاں سے وہاں تک چھٹکے ہوئے ہيں۔ ان کي کثرت سے گمان ہوتا ہے۔جيسے ميٹرک کا رزلٹ شائع ہوا ہو۔ ادھر ايک ہلال بھي جگمگا رہا ہے۔آسمان کي رونق بڑھا رہا ہے۔

 

ستارے چمکتے دمکتے بہت بھلے معلوم ہوتے ہيں ليکن کبھي کبھي ٹوٹ کر گر بھي جاتے ھيں۔جب يہ مٹي ميں مل جائے تو کوئي نہيں پوچھتا۔ وہي ستارے جو دوسروں کي تقدير کي خبر ديا کرتے ہيں ،بلکہ لوگوں کي قسمت بنايا بگاڑا کرتے ہيں،کبھي کبھي خود دوسروں سے اپني قسمت کا حال بجھواتے جنترياں کھلواتے نظر آتے ہيں ۔ہلال کا بھي ايسا احوال ہے۔ جب تک آسمان پر ہے ۔بس ہے آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل ،ستارے اور ہلال اچھے ہيں ليکن عزت کي غريبانہ زندگي ان سے بھتر ہے۔

 

ہلال يعني نئے چاند کو پرانے لوگ دود ہي سے ديکھا کرتے تھے اور سلام کيا کرتے تھے ،وہ بھي عيد بقرعيد پر۔اس زمانے ميں يہ چپ چاپ آپ ہي آپ نکل آتا تھا پھر ايسا دور آيا کہ لوگوں نے کھديڑ کر نکالنا شروع کر ديا۔ بلکہ آپس ميں لڑتے تھے کہ کون نکالے ۔چاند کے لئے ہبڑي مشکل ہوتي تھي کہ سرکار کا کہا مانے يا لوگوں کا۔ بيشک اتني بڑي قوم کے لئے ايک دن کي عيد کافي نہيں يکے بعد ديگرے دو تين دن کي ہو ۔ ليکن اس ميں سر پھٹول بہت تھي۔ اب يہ سلسلہ بند ہے ۔اور يہ بات ہميں پسند ہے۔

 

عيد کا پيغام لانے کے علاوہ چاند کا کوئي خاص مصرف نہ تھا۔ بس شاعر اور حکپور وغيرہ اس سے بات کر ليتے تھے يا پھر ان بستيوں ميں جہاں بجلي نہيں يہ لالٹين کا کام ديتا تھا ۔کچھ عرصہ ہوا ولايت والوں کو اس کے پيلے رنگ سے خيال ہوا کہ يہ سونے کا بنا ہوا ہے آخر اڑ کر جا پہنچے اور کالي کالي مٹي کي بورياں بھر لائے اور يہاں لا کر معلوم ہوا کہ ايسي مٹي بلکہ اس سے اچھي مٹي تو يہاں بھي ڈھيروں ہے بہت پچھتائے۔

 

آج کل ہمارے ملک ميں ہر شے ميں خود کفيل ہونے کا امکان ہے ۔اب لوگ آسمان کے چاند ستاروں کے بھي چنداں متحاج نہيں رہے ۔فلمي ستارے جن کے دم سے زمانے ميں اجالا ہے ہمارے ملک ميں بنتے ہيں اور اچھے بنتے ہيں۔ بلکہ اب تو سادر کے ملکوں برطانيہ، روس، کينيا وغيرہ کو بہي بھيجے جاتے ہيں ۔چاند بھي ديسي برا نہيں ہوتا ۔ہم نے جس چاند کے بارے ميں نطموں غزلوں کي پوري کتاب چاند نگر لکھ ڈالي وہ بھي مقامي ساخت کا تھا ۔مال اس ميں اچھا لگا تھا ۔مدتوں چلا۔

 

 

تبصرہ کریں

ابتدائي حساب

حساب کے چار بڑے قاعدے ہيں

جمع، تفريق، ضرب، تقسيم

پہلا قاعدہ : جمع

جمع کے قاعدے پر عمل کرنا آسان نہيں

خصوصا مہنگائي کے دنوں میں سب کچھ خرچ ہوجاتا ہے

کچھ جمع نہيں ہوپاتا

جمع کا قاعدہ مختلف لوگوں کيلئے مختلف ہے

عام لوگوں کيلئے ١+١ = 1 1/2

کيونکہ 1/2 انکم ٹيکس والے لے جاتے ہيں

تجارت کے قاعدے سے جمع کرائيں تو 1+1 کا مطلب ہے گيارہ

رشوت کے قاعدے سے حاصل جمع اور زيادہ ہوجاتا ہے

قاعدہ وہي اچھا جس ميں حاصل جمع زيادہ آئے بشرطيکہ پوليس مانع نہ ہو

ايک قاعدہ زباني جمع خرچ کا ہوتا ہے

يہ ملک کے مسائل حل کرنے کا کام آتا ہے

آزمودہ ہے

۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔

Comments (1)

اتفاق ميں برکت ہے


ايک بڑے مياں جنہوں نے اپني زندگي ميں بہت کچھ کمايا بنايا تھا۔ آخر بيمار ہوئے، مرض الموت ميں گرفتار ہوئے۔ ان کو اور تو کچھ نہیں، کوئي فکر تھي تو يہ کہ ان کے پانچوں بيٹوں کي آپس میں نہیں بنتي تھي۔ گاڑھي کيا پتلي بھي نہیں چھنتي تھي۔ لڑتے رہتے تھے کبھي کسي بات پر اتفاق نہ ہوتا تھا حالانکہ اتفاق ميں بڑي برکت ہے۔

 

آخر انہوں نے بيٹوں پر اتحاد و اتفاق کي خوبياں واضح کرنے کے لئے ايک ترکيب سوچي۔ ان کو اپنے پا س بلايا اور کہا ۔ ديکھو اب میں کوئي دم کا مہمان ہوں سب جا کر ايک ايک لکڑي لاؤ۔

 

ايک نے کہا۔ لکڑي؟ آپ لکڑيوں کا کيا کريں گے؟ دوسرے نے آہستہ سے کہا ۔بڑے مياں کا دماغ خراب ہو رہا ہے۔ لکڑي نہیں شايد ککڑي کہہ رہے ہیں، ککڑي کھانے کو جي چاہتا ہوگا۔ تيسرے نے کہا نہیں کچھ سردي ہے شايد آگ جلانے کو لکڑياں منگاتے ہوں گے ۔ چوتھے نے کہا بابو جي کوئلے لائيں؟ پانچويں نے کہا نہیں اپلے لاتا ہوں وہ زيادہ اچھے رہيں گے۔

 

باپ نے کراہتے ہوئے کہا ارے نالائقو میں جو کہتا ہوں وہ کرو۔ کہیں سے لکڑياں لاؤ جنگل سے۔ ايک بيٹے نے کہا۔ يہ بھي اچھي رہي، جنگل يہاں کہا؟ اور محکمہ جنگلات والے لکڑي کہاں کاٹنے ديتے ہيں۔

 

دوسرے نے کہا آپنے آپے ميں نہیں ہيں بابو جي بک رہے ہيں جنون ميں کيا کيا کچھ۔ تيسرے نے کہا بھئي لکڑيوں والي بات اپُن کي تو سمجھ میں نہیں آئي۔

 

چوتھے نے کہا۔ بڑے مياں نے عمر بھر ميں ايک ہي تو خواہش کي ہے اسے پورا کرنے ميں کيا حرج ہے؟ پانچويں نے کہا اچھا میں جاتا ہوں ٹال پر سے لکڑياں لاتا ہوں۔ چنانچہ وہ ٹال پرگيا، ٹال والے سے کہا خان صاحب ذرا پانچ لکڑياں تو دينا اچھي مضبوط ہوں۔

 

ٹال والے نے لکڑياں ديں۔ ہر ايک خاصي موٹي اور مضبوط ۔ باپ نے ديکھا اس کا دل بيٹھ گيا۔ يہ بتانا بھي خلاف مصلحت تھا کہ لکڑياں کيوں منگائي ہيں اور اس سے کيا اخلاقي نتيجہ نکالنا مقصود ہے۔ آخر بيٹوں سے کہا۔ اب ان لکڑيوں کا گھٹا باندھ دو۔

 

اب بيٹوں ميں پھر چہ ميگوئياں ہوئيں،گٹھا، وہ کيوں؟ اب رسي کہاں سے لائیں بھئي بہت تنگ کيا اس بڈھے نے ۔ آخر ايک نے اپنے پاجامے ميں سے ازار بند نکالا اور گھٹا باندھا۔

 

بڑے مياں نے کہا۔ اب اس گھٹے کو توڑو۔ بيٹوں نے کہا۔ تو بھئي يہ بھي اچھي رہي۔ کيسے توڑيں ۔ کلہاڑا کہاں سے لائيں ۔

 

باپ نے کہا کلہاڑي سے نہیں ۔ہاتھوں سے توڑو گھٹنے سے توڑو۔

 

حکم والد مرگ مفاجات ۔

 

پہلے ايک نے کوشس کي ۔پھر دوسرے نے پھر تيسرے نے پھر چوتھے نے پھر پانچويں نے۔ لکڑيوں کا بال بيکا نہ ہوا۔ سب نے کہا بابو جي ہم سے نہیں ٹوٹتا يہ لکڑيوں کا گھٹا۔

 

باپ نے کہا اچھا اب ان لکڑيوں کو الگ الگ کر دو ، ان کي رسي کھول دو۔ ايک نے جل کر کہا رسي کہاں ہے ميرا ازار بند ہے اگر آپ کو کھلوانا تھا تو گھٹا بندھوايا ہي کيوں تھا۔ لاؤ بھئي کوئي پنسل دينا ازار بند ڈال لوں پاجامے میں۔ باپ نے بزرگانہ شفقت سے اس کي بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا اچھا اب ان لکڑيوں کو توڑو ايک ايک کر کے توڑو۔

 

لکڑياں چونکہ موٹي موٹي اور مضبوط تھيں۔ بہت کوشش کي کسي سے نہ ٹوٹيں آخر میں بڑے بھائي کي باري تھي۔ اس نے ايک لکڑي پر گھٹنے کا پورا زور ڈالا اور تڑاخ کي آواز آئي۔

 

باپ نے نصيحت کرنے کے لئے آنکھيں ايک دم کھول ديں، کيا ديکھتا ہے کہ بڑا بيٹا بے ہوش پڑا ہے۔ لکڑي سلامت پڑي ہے۔ آواز بيٹے کے گھٹنے کي ہڈي ٹوٹنے کي تھي۔

 

ايک لڑکے نے کہا يہ بڈھا بہت جاہل ہے۔

 

دوسرے نے کہا۔ اڑيل ضدي۔

 

تيسرے نے کہا، کھوسٹ ، سنکي عقل سے پيدل، گھا مڑ۔

 

چوتھے نے کہا۔ سارے بڈھے ايسے ہي ہوتے ہيں کمبخت مرتا بھي نہیں۔

 

بڈھے نے اطمينان کا سانس ليا کہ بيٹوں ميں کم از کم ايک بات پر تو اتفاق رائے ہوا۔ اس کے بعد آنکھيں بند کيں اور نہايت سکون سے جان دے دي۔

 

۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔

Comments (1)

چڑا اور چڑيا

ايک تھي چڑيا، ايک تھا چڑا، چڑيا لائي دال کا دانا، چڑا لايا چاول کا دانا، اس سے کچھڑي پکائي، دونوں نے پيٹ بھر کر کھائي، آپس ميں اتفاق ہو تو ايک ايک دانے کي کچھڑي بھي بہت ہوتي ہے۔

چڑا بيٹھا اونگھ رہا تھا کہ اس کے دل ميں وسوسہ آيا کہ چاول کا دانا بڑا ہوتا ہے، دال کا دانا چھوٹا ہوتا ہے۔ پس دوسرے روز کچھڑي پکي تو چڑے نے کہا اس میں چھپن حصے مجھے دے، چواليس حصے تو لے، اے باگھوان پسند کر يا نا پسند کر ۔ حقائق سے آنکھ مت بند کر ، چڑے نے اپني چونچ ميں سے چند نکات بھي نکالے، اور بي بي نے آگے ڈالے۔ بي بي حيران ہوئي بلکہ رو رو کر ہلکان ہوئي کہ اس کے ساتھ تو ميرا جنم کا ساتھ تھا ليکن کيا کر سکتي تھي۔

دوسرے دن پھر چڑيا دال کا دانا لائي اور چڑا چاول کا دانا لايا۔ دونوں نے الگ الگ ہنڈيا چڑھائي ، کچھڑي پکائي ، کيا ديکھتے ہیں کہ دو ہي دانے ہيں، چڑے نے چاول کا دانا کھايا، چڑيا نے دال کا دانا اٹھايا ۔ چڑے کو خالي چاول سے پيچش ہوگئي چڑيا کو خالي دال سے قبض ہو گئي۔ دونوں ايک حکيم کے پاس گئے جو ايک بِلا تھا، اس نے دونوں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ پھيرا اور پھيرتا ہي چلا گيا۔

ديکھا تو تھے دو مشت پر

يہ کہاني بہت پرانے زمانے کي ہے۔ آج کل تو چاول ايکسپورٹ ہو جاتا ہے اور دال مہنگي ہے۔ اتني کہ وہ لڑکياں جو مولوي اسماعيل ميرٹھي کے زمانے ميں دال بگھارا کرتي تھيں۔ آج کل فقط شيخي بگھارتي ہيں۔

۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔

Comments (1)

فعل ديگر

فعل کي بنيادي قسميں دو ہيں، جائز فعل، ناجائز فعل، ہم صرف جائز فعل کے افعال سے بحث کريں گے، کيونکہ قسم دوئم پر پنڈت کو آنجہاني اور جناب جوش مليح آبادي مبسوط کتابيں لکھ چکے ہيں۔
فعل کي دو قسميں فعل لازم اور فعل متعدي بھي ہيں، فعل لازم وہ ہے جو کرنا لازم ہو، مثلا افسر کي خوشامد، حکومت سے ڈرنا، بيوي سے جھوٹ بولنا وغيرہ۔

فعل متعدي عموما متعدي امراض کي طرح پھيل جاتا ہے ايک شخص کنبہ پروري کرتا ہے، دوسرے بھي کرتے ہيں، ايک رشوت ليتا ہے، دوسرے اس سے بڑھ کر ليتے ہيں، ايک بناسپتي گھي کا ڈبہ پچيس روپے ميں کرديتا ہے دوسرا گوشت کے ساڑھے بارہ روپے لگاتا ہے، لطف يہ ہے کہ دونوں اپنے فعل متعدي کو فعل لازم قرار ديتے ہيں، ان افعال ميں گھاٹے ميں صرف مفعل رہتا ہے، يعني عوام ، فائل کي شکايت کي جائے تو تو فائليں دب جاتي ہيں۔

۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔

Comments (3)

بھارت

يہ بھارت ہے، گاندھي جي يہي پيدا ھوئے تھے، لوگ ان کي بڑي عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چناچہ مار کر ان کو يہي دفن کر ديا اور سمادھي بنا دي، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہيں تو اس پر پھول چڑھاتے ھيں، اگر گاندھي جي نہ مرتے يعني نہ مارے جاتے تو پورے ھندوستان ميں عقيدت مندوں کيلئے پھول چڑھانے کي کوئي جگہ نہ تھي۔ يہي مسئلہ ہمارے يعني پاکستان والوں کے لئے بھي تھا، ہميں قائد اعظم کا ممنون ہونا چاہئيے کہ خود ہي مرگئے اور سفارتي نمائندوں کے پھول چڑھانے کي ايک جگہ پيدا کردي ورنہ شايد ہميں بھي ان کو مارنا ہي پڑتا۔

بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت يہ ہے کہ اکثر ہمسايہ ملکوں کے ساتھ اس کے سيز فائر کے معاہدے ہوچکے ھيں،١٩٦٥ ميں ہمارے ساتھ ھوا اس سے پہلے چين کے ساتھ ھوا۔

بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتي اس کا دودھ پيتے ہيں، اسي کے گوبر سے چوکا ليپتے ہيں، اور اس کو قصائي کے ہاتھ بيچتے ہيں، اس لئيے کيونکہ وہ خود گائے کو مارنا يا کھانا پاپ سمجھتے ہيں۔

آدمي کو بھارت ميں مقدس جانور نہيں گنا جاتا۔

بھارت کے بادشاہوں ميں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہيں۔ اشوک سے ان کي لاٹ اور دھلي کا اشوکا ھوٹل يادگار ھيں، اور نھرو جي کي يادگار مسئلہ کشمير ہے جو اشوک کي تمام يادگاروں سے زيادہ مظبوط اور پائيدار معلوم ہوتا ہے ۔

راجہ نہرو بڑے دہر مہاتما آدمي تھے، صبح سويرے اٹھ کر شيرشک آسن کرتے تھے، يعني سر نيچے اور پير اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا ديکھنے کي عادت ہوگئي تھي۔ حيدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعايا کے نقطہ نظر سے اور کشمیر کو راجہ کے ۔ يوگ ميں طرح طرح کے آسن ہوتے ھيں، نا واقف لوگ ان کو قلابازياں سمجھتے ہيں، نہرو جي نفاست پسند بھي تھے دن ميں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے۔

۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔

تبصرہ کریں

Older Posts »