Archive for امجد اسلام امجد

ھم لوگ نہ تھے ایسے

ھم لوگ نہ تھے ایسے
ہیں جیسے نظر آتے
اے وقت گواہی دے
ھم لوگ نہ تھے ایسے
یہ شہر نہ تھا ایسا
یہ روگ نہ تھے ایسے
دیوار نہ تھے رستے
زندان نہ تھی بستی
آزار نہ تھے رشتے
خلجان نہ تھی ہستی
یوں موت نہ تھی سستی
یہ آج جو صورت ہے
حالات نہ تھے ایسے
یوں غیر نہ تھے موسم
دن رات نہ تھے ایسے
تفریق نہ تھی ایسی
سنجوگ نہ تھے ایسے
اے وقت گواہی دے
ھم لوگ نہ تھے ایسے

امجد اسلام امجد کی یہ نظم کافی عرصہ پہلے پڑھی تھی، اور مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔

Comments (2)