Archive for حبیب جالب

میں نہیں مانتا

وہ بھی خائف نہیں تختہءِ دار سے

میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے

 

کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے

 

ظلم کی بات کو جہل کی رات سے

 

ًمیں نہیں مانتا، میں نہیں‌جانتا

 

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں

 

اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں

 

چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں

 

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

 

دیپ جس کا محلات میں ہی جلے

 

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

 

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

 

ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو

 

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

 

 

۔۔۔ حبیب جالب ۔۔۔

 

 

Comments (2)

جہل کا نچوڑ


میں نے اس سے یہ کہا

 

یہ جو دس کروڑ ہیں

 

جہل کا نچوڑ ہیں

 

ان کی فکر سو گئی

 

ہر امید کی کرن

 

ظلمتوں میں کھو گئی

 

یہ خبر درست ہے

 

ان کی موت ہوگئی

 

بے شعور لوگ ہیں

 

زندگی کا روگ ہیں

 

اور تیرے پاس ہے

 

ان کے درد کی دوا

 

 

حبیب جالب کی یہ نظم کچھ حسبِ موقع لگی ہے۔

Comments (1)