untitled, originally uploaded by saima rasheed (sayyam).

 

Advertisements

Comments (1)

اپنے آپ کو مت پہچانو

حکماء کا اصرار ہے کہ اپنے آپ کو پہچانو لیکن تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ اپنے آپ کو مت پہچانو، ورنہ سخت مایوسی ہوگی۔

 

ایمرسن صاحب فرماتے ہیں انسان جو کچھ سوچتا ہے وہی بنتا ہے۔ کچھ بننا کس قدر آسان ہے، کچھ سوچنا شروع کردو اور بن جاؤ۔

 

اگر نہ بن سکو تو ایمرسن صاحب سے پوچھو۔

 

 

 

۔۔ شفیق الرحمٰن کی کتاب مزید حماقتیں سے ایک اقتباس ۔۔

Comments (4)

ھمتِ التجا نہیں باقی

ھمتِ التجا نہیں باقی

 

ضبط کا حوصلہ نہیں باقی

 

اک تری دید چھن گئ مجھ سے

 

ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی

 

اپنے مشقِ ستم سے ہاتھ نہ کھیںچ

 

میں نہیں یا وفا نہیں باقی

 

ترے چشمِ عالم نواز کی خیر

 

دل میں کوئئ گلہ نہیں باقی

 

ہو چکا ختم عہدِ ہجر و وصال

زندگی میں مزا نہیں باقی

Comments (7)

زندگی کی راہوں میں

زندگی کی راہوں میں

 

بار ہا یہ دیکھا ہے

 

صرف سُن نہیں رکھا

 

خود بھی آزمایا ہے

 

جو بھی پڑھتے آئے ہیں

 

اسکو ٹھیک پایا ہے

 

اسطرح کی باتوں میں

 

منزلوں سے پہلے ہی

 

ساتھ چھوٹ جاتے ہیں

 

لوگ روٹھ جاتے ہیں

 

یہ تمہیں بتا دوں میں

 

چاہتوں کے رشتوں میں

 

پھر گرہ نہیں لگتی

 

لگ بھی جائے تو اُس میں

 

وہ کشش نہیں رہتی

 

ایک پھیکا پھیکا سا رابطہ تو رہتا ہے

 

تازگی نہیں رہتی

 

۔۔۔ روح کے تعلق میں

زندگی نہیں رہتی ۔۔۔

 

بات پھر نہیں بنتی

 

لاکھ بار مل کر بھی

 

دل کبھی نہیں ملتے!

 

ذہن کے جھروکوں میں

 

سوچ کے دریچوں میں

 

تتلیوں کے رنگوں میں

 

پھول پھر نہیں کھلتے!

 

اس لئیے میں کہتا ہوں

 

اس طرح کی باتوں میں

 

احتیاط کرتے ہیں

 

اسطرح کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں!

 

(محسن نظامی)

Comments (3)

ہوائے شام کے رنگیں دیار جلنے لگے

ہوائے شام کے رنگیں دیار جلنے لگے
ہوئی جو شام تو جھکّڑ عجیب چلنے لگے
تھی شام زہر رنگ میں ڈوبی ہوئی کھڑی
پھر اک ذرا سی دیر میں منظر بدل گیا
یاد بھی ہیں اے منیر اس شام کی تنہائیاں
ایک میداں اک درخت اور تو خدا کے سامنے
شفق کا رنگ جھلکتا تھا لال شیشوں میں
تمام اجڑا مکاں شام کی پناہ میں تھا
شام کے رنگوں میں رکھ کر صاف پانی کا گلاس
آبِ سادہ کو حریف رنگِ بادہ کردیا

تبصرہ کریں

کتے

 

 

یہ گلیوں کے آوارہ بےکار کُتے

 

کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی

 

زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا

 

جہاں بھر کی دھتکار ، ان کی کمائی

 

 

نہ آرام شب کو، نہ راحت سویرے

 

غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے

 

جو بِگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو

 

ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو

 

یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے

 

یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے

 

 

یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے

 

تو انسان سب سرکشی بھول جائے

 

یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں

 

یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں

 

کوئی ان کو احساسِ ذلت دلا دے

 

کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے

 

 

۔۔۔ فیض احمد فیض ۔۔۔

 

 

آج کل کے حالات اور لوگوں پہ کچھ ٹھیک ٹھیک نہیں بیٹھتی یہ نظم ؟؟

 

 

Comments (6)

گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
گر مجھے اس کا یقین ھو کہ ِترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی ، ترے سینے کی جلن
میری دل جوئی ، مرے پیار سے مٹ جائے گی
گر مرا حرفِ تسلّی وہ دوا ھو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اجڑا ھوا بے نور دماغ
تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ھو جائے
گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
روز و شب ، شام و سحر میں تجھے بہلاتا رھوں
میں تجھے گیت سناتا رھوں ھلکے ، شیریں
آبشاروں کے بہاروں کے ، چمن زاروں کے گیت
آمدِ صبح کے ، مہتاب کے ، سیّاروں کے گیت
تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں
کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم
گرم ھاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ھیں
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ھوئے مانوس نقوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ھیں
کس طرح عارضِ محبوب کا شفّاف بلور
یک بیک بادہِ احمر سے دہک جاتا ھے
کیسے گلچیں کے لئے جھکتی ھے خود شاخِ گلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ھے
یونہی گاتا رھوں ، گاتا رھوں تیری خاطر
گیت ُبنتا رھوں، بیٹھا رھوں تیری خاطر
پر مرے گیت ترے دکھ کا ُمداوا ھی نہیں
نغمہ جرّاح نہیں، مونس و غم خوار سہی
گیت نشتر تو نہیں ، مرھم ِ آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا
اور یہ سفّاک مسیحا مرے قضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ھاں مگر تیرے سوا ، تیرے سوا ، تیرے سوا

 

فیض احمد فیض

Comments (6)

« Newer Posts · Older Posts »