Posts Tagged Poetry

کٹھن ہے راہ

کٹھن ہے راہ گزر تھوڑي دور ساتھ چلو
بہت کڑا ہے سفر تھوڑي دور ساتھ چلو

تمام عمر کہاں کوئي ساتھ ديتا ہے
يہ جانتا ہوں مگر تھوڑي دور ساتھ چلو

نشے ميں چور ہوں ميں بھي تمہيں ہوش نہيں
بڑا مزہ ہو اگر تھوڑي دور ساتھ چلو

يہ ايک شب کي ملاقات بھي غنيمت ہے
کسے ہےکل کي خبر تھوڑي دور ساتھ چلو

ابھي تو جاگ رہے ہيں چراغ راہوں کے
ابھي ہے دور سحر تھوڑي دور ساتھ چلو

طواف منزل جاناں ہميں بھي کرنا ہے
فراز تم بھي اگر تھوڑي دور ساتھ چلو

۔۔۔ احمد فراز ۔۔۔

Comments (9)

خواب مرتے نہیں

خواب مرتے نہیں


خواب دل ہیں نہ آنکھیں

نہ سانسیں کہ جو

ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے

جسم کی موت سے بھی یہ نہ مر جائیں گے

خواب مرتے نہیں

خواب تو روشنی ہیں

نوا ہیں

ہوا ہیں

جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں

ظلم کے دوزخوں سے پُھکتے نہیں

روشنی اور نوا اور ہوا کے عَلَم

مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں

خواب تو حرف ہیں

خواب تو نور ہیں

خواب تو منصور ہیں


خواب مرتے نہیں

احمد فراز

Comments (8)

احمد فراز – کٹھن ہے راہ

کٹھن ہے راہ گزر تھوڑي دور ساتھ چلو

بہت کڑا ہے سفر تھوڑي دور ساتھ چلو

تمام عمر کہاں کوئي ساتھ ديتا ہے

يہ جانتا ہوں مگر تھوڑي دور ساتھ چلو

نشے ميں چور ہوں ميں بھي تمہيں ہوش نہيں

بڑا مزہ ہو اگر تھوڑي دور ساتھ چلو

يہ ايک شب کي ملاقات بھي غنيمت ہے

کسے ہےکل کي خبر تھوڑي دور ساتھ چلو

ابھي تو جاگ رہے ہيں چراغ راہوں کے

ابھي ہے دور سحر تھوڑي دور ساتھ چلو

طواف منزل جاناں ہميں بھي کرنا ہے

فراز تم بھي اگر تھوڑي دور ساتھ چلو

۔۔۔ احمد فراز ۔۔۔

Comments (5)

ھمتِ التجا نہیں باقی

ھمتِ التجا نہیں باقی

 

ضبط کا حوصلہ نہیں باقی

 

اک تری دید چھن گئ مجھ سے

 

ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی

 

اپنے مشقِ ستم سے ہاتھ نہ کھیںچ

 

میں نہیں یا وفا نہیں باقی

 

ترے چشمِ عالم نواز کی خیر

 

دل میں کوئئ گلہ نہیں باقی

 

ہو چکا ختم عہدِ ہجر و وصال

زندگی میں مزا نہیں باقی

Comments (7)

زندگی کی راہوں میں

زندگی کی راہوں میں

 

بار ہا یہ دیکھا ہے

 

صرف سُن نہیں رکھا

 

خود بھی آزمایا ہے

 

جو بھی پڑھتے آئے ہیں

 

اسکو ٹھیک پایا ہے

 

اسطرح کی باتوں میں

 

منزلوں سے پہلے ہی

 

ساتھ چھوٹ جاتے ہیں

 

لوگ روٹھ جاتے ہیں

 

یہ تمہیں بتا دوں میں

 

چاہتوں کے رشتوں میں

 

پھر گرہ نہیں لگتی

 

لگ بھی جائے تو اُس میں

 

وہ کشش نہیں رہتی

 

ایک پھیکا پھیکا سا رابطہ تو رہتا ہے

 

تازگی نہیں رہتی

 

۔۔۔ روح کے تعلق میں

زندگی نہیں رہتی ۔۔۔

 

بات پھر نہیں بنتی

 

لاکھ بار مل کر بھی

 

دل کبھی نہیں ملتے!

 

ذہن کے جھروکوں میں

 

سوچ کے دریچوں میں

 

تتلیوں کے رنگوں میں

 

پھول پھر نہیں کھلتے!

 

اس لئیے میں کہتا ہوں

 

اس طرح کی باتوں میں

 

احتیاط کرتے ہیں

 

اسطرح کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں!

 

(محسن نظامی)

Comments (3)

چلے گۓ

اب پر ہيں، نہ قفس، نہ صياد، نہ چمن
جتنے تھے زندگي کے سہارے چلے گۓ

جن پہ تھا ناز مجھ کو يہ ميرے دوست ہيں
دامن جھٹک کے ميرا وہ پيارے چلے گۓ

ہر شب کو آنسوؤں کے جلاتے رہے چراغ
ہم تيري بزمِ ياد نکھارے چلے گۓ

لتھڑي ہوئي تھي خون ميں ہر زلفِ آرزو
جوشِ جنوں ميں ہم مگر سنوارے چلے گۓ

ہر زخم دل ميں تيرا سنوارے چلے گۓ
ہم زندگي کا قرض اتارے چلے گۓ

سو بار موت کو بھي بنايا ہے ہمسفر
ہم زندگي کے نقش ابھارے چلے گۓ

خالد حفيظ

تبصرہ کریں